تربت سے جبری لاپتہ زمان و ابولحسن کی گرفتاری قلعہ عبداللہ سے ظاہر کردی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچستان کے ضلع کیچ سے جبری گمشدگی کے شکار نوجوان زمان جان اور ابولحسن کی گرفتاری سی ٹی ڈی نے قلعہ عبداللہ سے ظاہر کردی ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے تربت سے لاپتہ زمان جان اور ابوالحسن کی قلعہ عبداللہ توبہ اچکزئی کراس سے گرفتاری ظاہر کردی ہے اور ان پر کالعدم مسلح تنظیم سے تعلق کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے بغرض تخریب کاری ہینڈ گرینیڈ برآمدگی کا دعویٰ کیا ہے۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ یکم جنوری کو مخبر خاص کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے زمان جان اور ابوالحسن کو توبہ اچکزئی کراس ضلع قلعہ عبداللہ سے ایک موٹرسائیکل پر سوار جاتے ہوئے روکا اور ان دونوں سے دو عدد ہینڈ گرینیڈ سمیت دیگر مواد برآمد کیا۔

زمان جان اور ابوالحسن جن کا تعلق ضلع کیچ کے دیہی علاقہ بالگتر سے ہے ان کی جبری گمشدگی کا الزام ان کے فیملی نے ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین اوتمان پر لگایا ہے۔

فیملی کے مطابق ان دونوں کے علاوہ الطاف نامی نوجوان کو ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین نے اپنے گھر بلاکر انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا تھا تاہم دو دن بعد الطاف کو رہا کردیا گیا۔

یاد رہے کہ زمان جان اور ابوالحسن کی بازیابی کے لیے ان کے فیملی نے گذشتہ شام سے ہوشاپ زیرو پوائنٹ پر سی پیک شاہراہ بلاک کردیا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ کسی جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقدمے میں ڈال کر اس کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے اس سے قبل بھی متعدد بار عسکری حکام اس طرح کی جعلی مقدمات و الزامات کے تحت لاپتہ افراد کو جیلوں میں ڈال چکا ہے۔

Share This Article