زمبابوے میں ’سزائے موت‘ کے قانون کے خاتمے کی منظوری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

زمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا نے جنوبی افریقی ریاست میں سزائے موت کو فوری طور پر ختم کرنے والے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو ’خطے میں امید کی کرن قرار دیا ہے تاہم تنظیم کی جانب سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس میں زمبابوے کی حکومت کا کہنا ہے کہ ’ہنگامی حالات کے دوران سزائے موت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔‘

نانگاگوا کا یہ اقدام دسمبر کے اوائل میں زمبابوے کی پارلیمنٹ کی جانب سے سزائے موت کو ختم کرنے کے حق میں ووٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔

زمبابوے میں آخری بار 2005 میں پھانسی دی گئی تھی لیکن اس کی عدالتیں قتل جیسے سنگین جرائم میں سزائے موت سناتی رہیں۔

زمبابوے کے وزیر انصاف و قانون زیامبی زیامبی نے کہا کہ ’سزائے موت کا خاتمہ قانونی اصلاحات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی جانب حکومت کی کوششوں اور اُس کی سنجیدگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اقدام نہ صرف زمبابوے کے لیے ’بڑی اور اہم پیش رفت‘ ہے بلکہ ’اس انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سزا‘ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں بھی ایک ’اہم سنگ میل‘ ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا کے 113 ممالک جن میں افریقہ کے 24 ممالک بھی شامل ہیں نے سزائے موت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سنہ 2023 میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے پانچ ممالک چین، ایران، سعودی عرب، صومالیہ اور امریکہ تھے۔

Share This Article