بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف ہوشاپ اور جیونی میں لواحقین نے احتجاجاً شاہراہیں بلک کردی ہیں جس سے ٹریفک مکمل معطل ہے۔
ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ کے مقام پر جبری لاپتہ زمان اور ابولحسن کی عدم بازیابی خلاف ایک مرتبہ پھر احتجاجاً روڈ بلاک کردیا گیا ہے۔
جبری لاپتہ زمان جان اور ابولحسن بلوچ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین اوتمان بلوچ نے اپنے گھر بُلا کر جبری طور پر گمشدہ کیا تھا جس کے خلاف ہم نے سی پیک روڈ کو ہوشاپ کے مقام سے بند کر کے دھرنا دیا۔ دھرنے کے مقام سے انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں سے مزاکرات میں ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ دو دنوں کے اندر زمان اور ابولحسن بلوچ کو بازیاب کیا جائے گا، مگر آج پانچ دن گزرنے کے باوجود انہیں اب تک بازیاب نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ہمیں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ اس وقت کہاں اور کس کی قید میں ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت مسلسل جھوٹے بہانوں اور مختلف طریقوں سے ہمیں ہراساں کررہی ہے۔ ہم نے سی پیک روڈ سے اپنا دھرنا اس لیے ختم کیا تھا کہ دو دنوں کے اندر ہمارے پیاروں کو بازیاب کردیا جائے گا مگر حکومت دیے گئے وقت پر زمان اور ابولحسن کو بازیاب کرنے میں ناکام رہی اس لیے آج ہم نے پھر سے دھرنا دیکر سی پیک روڈ کو بند کر دیا ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے تحصیل جیونی کے علاقے پانوان میں بھی لاپتہ افراد لواحقین نے روڈ بلاک کرکے دھرنا دیا ہواہے۔
تین روز فورسزنے جیونی پانوان سے 10 افرادکو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا جن میں 4 کو رہا کردیا گیا جبکہ دیگر 6 تاحال فورسز کے تحویل میں ہیں۔
لواحقین نے اپنے 6 لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً بند کردیا ہے ۔
یاد رہے کہ فورسز نے مذکورہ افراد کو 29دسمبر کو جیوانی کے علاقے پانوان سے حراست میں جبری لیکر لاپتہ کیا تھا۔
لاپتہ کئے گئے 10 لوگوں میں سے چار ریا ہو ئے جبکہ 6 ابھی تک بند ہیں جن کیلئے لوائقین کی طرف سے آج روڈ بند کی گئی ہے۔
لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت شاہ جان ،شھداد، حسن، عزیز، سمید ،عبدالحمید ، عمران محمداور زھیر امام کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے پیاروں کو نہیں چھوڑا جائے گا تب تک روڈ بند رہے گا اور دھرنا جاری رہے گا۔