بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے جیونی پانوان سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز نے 15 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ روزجیونی میں دو مقامات پر پاکستان کوسٹ گارڈ پر دو حملے رپورٹ ہوئے ہیں جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مذکورہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
اب یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ فورسز نے پانوان سے 15 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ہے ۔
فورسز ہاتھوں 15 افراد کی جبری گمشدگی کی کی اطلاعات مقامی ذرائع کی جانب سے سامنے آئی ہے لیکن اب اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
دوسر ی جانب وڈھ میں 2 نعشیں برآمد ہوئی ہیںجن میں ایک پہلے سے لاپتہ تھا۔
برآمد نعشوں میں ایک کی شناخت مختیار احمد ولد محمد ابراہیم نوھکزئی اور دوسری کی شناخت مجیب الرحمان کے نام سے ہوگئی ہے ۔
بتایا جارہاہے کہ مختیار احمد ولد محمد ابراہیم نوھکزئی کو نامعلوم افراد نے پانچ دن قبل اغوا کرنے کے بعد سرمیں گولی مار کر قتل کرکے نعش مرشانک پہاڑی میں پھینک دیا تھا۔
اتوار کی صبح پورے علاقے میں لوگ تلاش کیلئے نکل گئے جہاں انھوں نے نعش برآمد کرلی ۔
جبکہ وڈھ سے برآمد ہونے والی دوسری نعش مجیب الرحمان نامی شخص کی تھی جسے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا۔
کہا جارہا کہ مذکورہ شخص 5روز قبل لاپتہ ہوگیاتھا ۔
لیویز نے نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا اور مزیدکارروائی شروع کردی ہے۔