شام میں نئے انتخابات کے انعقاد میں 4 سال کا وقت لگ سکتا ہے، احمد الشرع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

شام کے نئے باغی رہنما احمد الشرع نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں نئے انتخابات کے انعقاد میں چار سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب انھوں نے شام میں ممکنہ انتخابات کے حوالے سے ٹائم لائن دی ہے کیونکہ ان کے گروپ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نے سابق صدر بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے باغیوں کے حملے کی قیادت کی تھی۔

اتوار کو سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے میں تین سال لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسد حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شام عوام کو عوامی خدمات میں نمایاں تبدیلی اور بہتری دیکھنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

الشرع نے کہا کہ شام کو اپنے قانونی نظام کی تعمیر نو کی ضرورت ہے اور جائز انتخابات کے انعقاد کے لئے ایک جامع مردم شماری کرنا ہوگی۔

اس ماہ کے اوائل میں بشار الاسد کی صدارت کے خاتمے کے بعد الشرع جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے اب ملک کے نئے حکمران کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

الشرع نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ کہا کہ یہ گروپ، جو کبھی دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے ساتھ منسلک تھا اور اقوام متحدہ اور بہت سے ممالک نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، کو آئندہ قومی مذاکراتی کانفرنس میں ’تحلیل‘ کر دیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ کانفرنس اس بات کا پہلا امتحان ثابت ہو گی کہ آیا شام کی نئی قیادت تیرہ سال کی خانہ جنگی کے بعد ملک کو متحد کرنے کے وعدے کے مطابق اپنے تہہ کردہ اہداف حاصل کر سکے گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ شام میں بہت سے نسلی اور مذہبی گروہ آباد ہیں جن میں کرد، آرمینیائی، مسیحی، شیعہ اور عرب سنی شامل ہیں۔

تاہم الشرع کی تنظیم ہیئت تحریر الشام نے شامی عوام سے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ یہاں آباد تمام تر گروہوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور انھیں اُن کے عقائد کے ساتھ مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

Share This Article