پاکستان مخالفین پناہ گزین ہمارے مہمان ہیں،پناہ دیتے رہیں گے، افغان طالبان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو: اے پی

افغانستان میں طالبان حکومت کے سینئر رہنما نے اشارہ دیا ہے کہ اُن کی حکومت پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

طالبان رہنما کے مطابق ملکی روایات کے مطابق پاکستان سے آنے والے لوگ افغانستان کے "مہمان” ہیں۔

طالبان حکومت کے وزیرِ اطلاعات خیراللہ خیرخواہ کا یہ بیان پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقے میں کی جانے والی مبینہ فضائی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔

طالبان نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ صوبہ پکتیکا میں پاکستان کی فضائی کارروائی میں تقریباً 50 شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر پاکستانی مہاجرین تھے۔ البتہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ اسے "مصدقہ اطلاعات موصول” ہوئی ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی صوبے میں کی جانے والی فضائی کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کے وزیرِ اطلاعات نے پاکستان کی فضائی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے مہمانوں اور دوستوں کی حفاظت کرنے کے لیے افغان قوم کے عزم کا احترام کرنا چاہیے۔

طالبان کے زیرِ کنٹرول سرکاری ٹیلی ویژن اور سوشل پلیٹ فارم ایکس پر جمعے کو خیراللہ خیرخواہ کی جاری کردہ تقریر میں انہیں بظاہر ٹی ٹی پی کا حوالہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو برطانیہ، سابق سویت یونین اور امریکہ کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی عسکری مداخلت کے نتائج سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

خیرخواہ نے اس بات پر زور دیا کہ جو کوئی بھی افغانستان پر حملہ کرتا ہے یا اس طرح کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے تین سپر پاور کو ہونے والی شکست سے سیکھنا چاہیے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی سے متعلق طالبان کے کسی سینئر رہنما کی جانب سے یہ پہلا عوامی سطح پر اعتراف ہے۔

اس سے قبل طالبان اپنی سر زمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

افغان طالبان یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں کسی غیر ملکی دہشت گردوں کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی اور افغان سر زمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

Share This Article