پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ایف آئی اے کے 31 اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کے معاملے میں مبینہ طور پر ملک بھر سے 31 افسران و اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق تمام 31 افسران یونان کشتی حادثے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ایف ائی اے کے ان 31 افسران کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان اہلکاروں میں فیصل اباد ایئرپورٹ کے 19، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے تین اور لاہور ایئرپورٹ کے دو افسران شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان اہلکاروں میں اسلام اباد ایئرپورٹ کے دو جبکہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے پانچ افسران کے نام شامل ہیں اور ان میں انسپیکٹر سب انسپیکٹر کانسٹیبل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان سے غیرقانونی تارکین وطن کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران یونان میں پیش آنے والے حادثے کا شکار ہو گئے تھے جس میں پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔

یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق فی الحال پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا جنھیں یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اس حادثے کے دوران لاپتہ ہونے والی پاکستانی شہریوں کی اصل تعداد کا تو علم نہیں تاہم یہ درجنوں میں ہو سکتے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے گذشتہ ہفتے یونان کشتی حادثے میں ملوث تین انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے دو افسران کو گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے بڑی کارروائی کی ہے اور یونان کشتی حادثے میں متاثر ہونے والے پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسے دینے میں ملوث 3 انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

سنہ 2023 میں یونان کے اسی علاقے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 262 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں ایسے ایجنٹس کے خلاف بھرپور کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

Share This Article