بلوچستان میں پاکستانی فوج نے اپنی جنگی جرائم پالیسی کے تحت جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز تر کیا ہے۔
آج بروزجمعہ کو ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے فورسز نے 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے ۔
لاپتہ کئے جانے والے تینوں نوجوان آپس میں بھائی ہیںجن کی شناخت احسان ولد منظور، افضل ولد منظوراور حامد ولد منظورکے ناموں سے ہوگئی ہے ۔جبکہ چوتھے کی شناخت شاہ جان ولد برکت علی کے نام سے ہوگئی ہے۔
تینوں بھائیوں کو تربت کے علاقے آپسر سے 10 دسمبر کی رات کو فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گھر پر چھاپہ مار کرحراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے۔
خاندان نے تینوں کی گمشدگی کی تصدیق کردی ہے۔
اسی طرح شاہ جان ولد برکت علی کو فورسز نے انکے گھر سری کہن سے لاپتہ کردیا ہے ۔
لواحقین نے بتایا کہ شاہ جان کو رات ایک بجے فورسز نے انکے گھر سری کہن سے لاپتہ کردیا ہے ۔
دوسری جانب قلات سے 8 اور 9 دسمبر کی درمیانی رات کو فورسز کے ہاتھوں کلی زکریازئی منگچر سے جبری لاپتہ تین بھائی محبوب علی، ارشاد احمد اور مرید احمد بازیاب ہو گئے ہیں ۔
یاد رہے کہ انکے جبری گمشدکی کے خلاف لواحقین نے گزشہ دو روز تک کوئٹہ کراچی شاہراہ کو منگچر کے مقام پر احتجاجاً بند کردیا ۔ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات اور یقین دہانی کے بعد احتجاج مؤخر کردیا گیا اور آج انہیں بازیاب کیا گیا۔