ترکی کی انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں نے شام کے شمالی شہر منبج پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
شامی کردستان میں ترکی نے ڈرون حملہ کرکے ایک خاندان کے 11 افراد بھی قتل کردیئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے ترکی کے سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ترکی کی حمایت یافتہ سیریئن نیشنل آرمی (اس این اے) نے کئی دنوں کی شدید جھڑپوں کے بعد کرد قیادت میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (اس ڈی ایف) سے منبج کا قبضہ چھین لیا۔
انادولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایس این اے کے دستے اب علاقے میں ممکنہ بارودی سرنگوں اور جالوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس ڈی ایف، داعش کے خلاف امریکی قیادت میں اتحاد کا ایک اہم اتحادی رہا ہے۔ ترکی نہ صرف کردوں کے ایک وسیع علاقے پر قابض ہے بلکہ خطے میں بھی ترکوں کی آزاد ریاست کی جارحانہ مخالفت کرتا ہے۔ عموما ترکی کی طرف سے عراق میں کردوں کی خودمختار علاقے پر بھی فضائی اور زمینی حملے کیے جاتے ہیں۔
ترکی الزام عائد کرتا ہے کہ وہ یہ کارروائی پارتی کاریکردان کردستان ( پی کے کے ) کے خلاف کر رہا ہے۔ پی کے کے ترکی کے زیرانتظام کرد علاقوں میں متحرک آزادی پسند تنظیم ہے جو ترکی سے کردستان کی آزادی چاہتی ہے۔
داعش کے ظہور اور خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران کرد عالمی طاقتوں اور انتہاء پسندی کے خلاف ایک اہم اور موثر اتحادی کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن داعش کی شکست اور علاقے میں استحکام کے بعد کردوں کو عالمی طاقتوں نے نظرانداز کرنے کی پالیسی اپنائی۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران کرد اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن ترکی کے جارحانہ رویے کی وجہ سے انھیں شامی حکومت کی حمایت درکار رہی۔
ملک کے مخصوص حالات کے نتیجے میں شام میں بشار الاسد کی حکومت اور کردوں کے درمیان مفاہمانہ رشتے قائم ہوئے۔ اسد مخالفین کے شام پر قبضے کے بعد کرد اپنے مستقبل کو لے کر پریشانی سے دوچار ہیں۔
شامی کردستان میں ترکی کے ڈرون حملے میں ایک خاندان کے 11 افراد ہلاک بھی ہوگئے۔
شمالی شام کے الرقہ علاقے میں ترک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ گاؤں ’المستریحہ‘ میں پیش آیا، جو سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (اس ڈی ایف) کے زیرِ کنٹرول علاقے میں واقع ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’ المرصد السوری لحقوق الإنسان‘ (سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس) کے مطابق، ترک ڈرون نے ایک مکان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں یہ ’المناک‘ جانی نقصان ہوئے۔
سیریئن آبزرویٹری کے مطابق کہ 2024 کے آغاز سے ترکی نے شمالی اور مشرقی شام کے خودمختار انتظامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر 191 فضائی حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں 55 افراد ہلاک ہوئے۔ 122 افراد زخمی ہوئے، جن میں 49 جنگجو اور 73 شہری شامل ہیں۔ زخمیوں میں چھ خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
علاقائی تقسیم کے مطابق ، ترکی نے الحسکہ پر 140 حملے کیے، 33 افراد ہلاک (24 جنگجو، تین حکومتی فوجی، چھ شہری) ، الرقہ پر سات حملے، 15 افراد ہلاک (چار جنگجو، 11 شہری)اور حلب پر 45 حملے، سات افراد ہلاک (چار جنگجو، تین شہری) ہوئے۔
المرصد السوری کے مطابق یہ حملے خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی جانوں کے مسلسل نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس سے خطے میں خوف و ہراس کی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔