روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔
روسی خبررساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق بشارالاسد اور ان کے خاندان کو روس میں پناہ دے دی گئی ہے۔
شام میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ مشرق وسطیٰ میں قائم پرانے نظام میں آنے والی ایک اور پرتشدد تبدیلی ہے۔
یہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد خطے میں آنے والی تازہ ترین تبدیلی ہے تاہم اسے آخری نہیں کہا جا سکتا۔
محلِ وقوع کے اعتبار سے شام مشرقِ وسطیٰ کے عین درمیان میں واقع ہے اور یہاں جو بھی ہوتا ہے اس کا اثر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑتا ہے۔
14 برس تک جاری رہنے والی شام کی جنگ میں روس، ترکی، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ، ایران سمیت اتنی عالمی طاقتیں ملوث تھیں کہ یہ خانہ جنگی کم اور ایک چھوٹی سی عالمی جنگ زیادہ لگنے لگی تھی۔
اب باغی رہنما ابو محمد الجولانی، شامی عوام اور بیرونی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس جنگ کو ختم کرنا ہے تاکہ یہ کوئی اور شکل نہ لے لے۔
شام کی عوام کی حق میں سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ شامی باغی انتقامی کارروائیوں سے باز رہتے ہوئے ملک میں امن و امان قائم کریں اور ایک ایسا سیاسی عمل شروع کریں جس میں تمام شامی عوام حصہ لے سکیں۔ دوسری جانب بیرونی طاقتوں کو بھی شام کی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے بجائے شام کے مفادات کا سوچنا پڑے گا۔
شام کے لیے سب سے ڈراؤنی صورتحال تو یہ ہو گی کہ شام بھی دیگر عرب آمریتوں کے راستے پر چل پڑے اور یہاں بھی ویسی ہی خونریزی شروع ہو جائے جیسے عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کے جانے کے بعد ہوا تھا۔
بشارالاسد کی حکومت کو اس بات پر ناز تھا کہ شام عرب دنیا کا دل ہے۔ بشار الاسد نے اس بات کا اعادہ اس وقت دوبارہ کیا جب گذشتہ سال شام کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔
انھیں امید تھی کہ وہ شام کی بحالی کے ساتھ باغیوں پر اپنی فتح کی مہر ثبت کر پائیں گے۔لیکن جب باغیوں نے پیش قدمی شروع کی تو پندرہ دن بھی نہیں لگے اور ان کی حکومت گر گئی۔