ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزول شامی صدر بشار الاسد کے اتحادی ایران کو مداخلت کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا کیونکہ باغی دمشق کی جانب طرف بڑھ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سے کبھی مدد نہیں مانگی گئی، بنیادی طور پر یہ ذمہ داری شامی فوج کی تھی یہ نہ تو ہماری ذمہ داری تھی اور نہ ہی ہم نے کبھی اسے اپنا فرض سمجھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حیرت انگیز طور پر شامی فوج باغیوں کی دمشق کی جانب اس پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہی۔‘
دوسری جانب روس نے شام کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے ٹیلی گرام پر لکھا ہے کہ انھیں امید ہے کہ سوموار کے روز سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا۔
پولیانسکی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ بشارالاسد کی حکومت جانے کا روس اور مشرق وسطیٰ پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی قائم غیر فوجی زون پر عارضی قبضے پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔