بلوچستان کے طلبا تنظیموں نے بولان میڈیکل کالج کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے ۔
بلوچستان کے دارلحکومے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں طلبا تنظیموں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بولان میڈیکل کالج میں جاری دھرنے میں اتوار کے دن سیمینار کےانعقاد سمیت بلوچستان وپاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بولان میڈیکل کالج کے حالیہ مسائل پہ ہم پہلے بھی آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں اور آپ میڈیا نمائندگان کی توسط سے اپنا بیانیہ حکومت وقت اور عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ جیسے کہ آپ جانتے ہیں بلوچستان میں تعلیمی نظام اور صحت دونوں زبوں حالی کا شکار ہیں ہر دور میں حکومتیں بلند و بالا دعوے تو کرتے ہیں مگر آج بھی زمینی حالات یکسر ان دعوؤں کے متضاد ہیں۔ بولان میڈیکل کالج بلوچستان میں میڈیکل ایجوکیشن کا واحد اور پہلا ادارہ تھا جہاں سے فارغ التحصیل ڈاکٹر آج بلوچستان کے صحت کے نظام کو جو تباہی کا شکار ہے پھر بھی سنبھالے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے بولان میڈیکل کالج اپنے آغاز سے لیکر آج تک مسائل کا گڑھ ہے جہاں کبھی میڈیکل ایڈمشن ٹیسٹ کے بے ضابطیوں کے خلاف طلبا احتجاج پہ ہوتے ہیں تو کبھی بی ایم سی کی پرائیوٹائزیشن کے خلاف تا م مرگ بھوک ہڑتال کرتے ہیں کوئی ایسا تعلیمی سال نہیں جہاں بی ایم سے کے طلبا سڑکوں پہ خوار نہ ہوئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی بولان میڈیکل کالج کے طلبا احتجاجی دھرنے پہ بیٹھے ہیں جس مسلئے کو جواز بنا کر کالج اور ہاسٹل کی تالا بندی کی گئی اس کو ہوئے مہینہ ہوا ہے ہونا یہ چاہیے تھا کہ جونہی وہ مسلہ سلجھ جاتا اگلے دن کالج اپنے معمول کے مطابق فعال ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور نااہل انتظامیہ جو کرپشن کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے انہوں نے سینکڑوں طلبا کی تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کرکے ہاسٹل اور کالج کو اگلے سال مارچ تک بند کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔ اور جواز یہ پیش کیا کہ کالج ہاسٹل کی مرمت وغیرہ کا کام کیا جائے گا، حیرانگی کی بات ہے کہ اسی کالج کے انتظامیہ فنڈ کی کمی کا رونا روتے ہیں الاؤئنس نہ ملنے پہ مہینوں خود کالج بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں وہاں مرمت کے پیسے اچانک کہاں سے آئے۔؟ اور مرمت کے نام پہ ہاسٹل کو بھی سے کیوں بند کیا جارہا ہے جب نومبر- دسمبر شیڈول کے مطابق امتحانات لینے کا وقت ہے امتحانات کو ملتوی کرکے ہاسٹل اور کالج کو مرمت کے نام پہ بند کرنا کہاں کا جواز ہے۔؟
طلبا رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اس مختصر گفتگو میں شاید آپ لوگوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ نااہل انتظامیہ اپنی غفلت چھپانے اور انتظامی طور پر اناہل ہونے کی وجہ سے معاملات کو طول دے رہا ہے، جس کے خلاف طلبا کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اسی لئیے پچھلے دس دنوں سے بولان میڈیکل کالج کے اندر ایک احتجاجی دھرنا جاری ہے، جس کا شاید آپ لوگوں کو علم ہوگا۔ اس دھرنے کے تین سادہ مطالبات ہی اگر کوئی زی شعور، طلبا کے ساتھ ہمدردی رکھنے، اپنے پیشے کے ساتھ مخلص اور لائق انتظامیہ ہوتا تو یہاں تک نوبت پہنچنے نہیں دیتے لیکن چونکہ انتظامیہ مکمل نااہل ہوکر خواب خرگوش ہے تو انہیں یہ یاد دلانے کہ وہ انتظامی طور پر ایک ادارے کے سربراہ ہیں اور ان کا کام طلبا کو سہولیات فراہم کرنے ہیں انہیں جگانے کیلئے احتجاج جاری ہے جس میں تین مطالبات ہیں۔
۱- کالج اور ہاسٹل کو فی الفور کھولا جائے۔
۲- طلبا پہ لاٹھی چارج، تشدد، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال اور سینکڑوں طلبا کو جیل پہنچانے والے نااہل انتظامیہ اور پولیس کے زمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے۔
۳- کالج ہاسٹل پہ پولیس کاروائی کے دوران لاکھوں مالیات کا سامان غائب ہوا ہے جس میں طلبا کے موبائل، لیپ ٹاپ اور دوسری قیمتی سامان غائب ہوئے ہیں ان تمام طلبا کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جیسے کہ اوپر ہم نے اپنے مطالبات آپ کے سامنے رکھے ہیں اس میں ایسا کونسا مطالبہ ہے جو کالج انتظامیہ کے بس سے باہر ہو لیکن انتظامیہ نے سینکڑوں طلبا کو یہ کہہ کر سڑکوں پہ در پہ در ہونے کیلیے چھوڑا ہے کہ ہمیں اوپر سے آرڈر ہے ہم بے بس ہیں، اور اوپر والوں کے نام سے طلبا کو نہ صرف ہاسٹل اور کالج سے بیدخل کیا گیا بلکہ طلبا کو مسلسل انتظامیہ کی طرف سے ہراساں بھی کیا جارہا ہے طلبا کے خاندان تک کو دھمکایا جارہا ہے فون کالز کئے جارہے ہیں ۔
ہم اس پریس کانفرنس کی توسط سے ان اوپر والوں یعنی کہ صوبائی اور ضلعی حکومت کو گوش گزار کرنا چارہے ہیں کہ ہم اپنے تعلیمی حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں ہم اس کالج میں باقاعدہ ٹیسٹ پاس کرکے میرٹ پہ آئے ہیں اور ہم اپنے کالج اور ہاسٹل کی رسائی کا حق چاہتے ہیں اس میں آپ کو نہ صرف خود سنجیدہ ہونا چاہیے بلکہ ہر اس عنصر کے خلاف کاروائی کرنا چاہیے جو آپ کا یعنی پولیس اور دیگر اداروں کا نام لیکر طلبا کو دھمکا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بی ایم سی کے طلبا اور ان کے نااہل انتظامیہ کے درمیان ہے انتظامیہ اپنے کالج کے داخلی مسائل میں مکمل بااختیار ہے اور کالج و ہاسٹل کو یہی نااہل اتنظامیہ بند کرچکا ہے جس میں دوسرے ادروں کا شاید کوئی کردار نہیں ہے لیکن انتظامیہ طلبا کے سامنے یہ تاثر دے رہا کہ ہمیں اوپر سے آرڈر آیا ہے اور ہم بے بس ہیں۔