بھارت: خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پہلے مہا دیوکامندر تھا ، ہندو تنظیم کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ہندو مذہبی تنظیم ’ہندو سینا‘ نے ریاست راجستھان کے شہر اجمیر کی سول عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سنکٹ موچن مہادیو مندر ہونے کا دعویٰ کیا اور درگاہ کا سروے کرائے کا مطالبہ کیا تھا۔

سول کورٹ (ویسٹ) کے جج من موہن چندیل نے تنظیم کے صدر وشنو گپتا کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے بدھ کو اجمیر درگاہ کمیٹی، اقلیتی امور کی وزارت اور محکمہ آثار قدیمہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ہندو سینا نے ستمبر میں درخواست داخل کی تھی۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 20 دسمبر کو ہو گی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر درگاہ کے تعلق سے کوئی رجسٹریشن کرائی گئی تو اسے منسوخ کیا جائے اور وہاں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست گزار نے 1910 میں شائع ہونے والی ہر وکاس شاردا کی ایک کتاب کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ روایات کے مطابق درگاہ کی تعمیر سے قبل وہاں ایک مندر تھا۔ لہٰذا اس کی تصدیق کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ سے سروے کرائے جانے کی ضرورت ہے۔

اجمیر کی درگاہ کمیٹی کے سیکریٹری سید سرور چشتی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب ایسا کوئی تنازع پیدا نہیں ہو گا۔ انھوں نے درگاہ کو تمام مذاہب کے ماننے والوں کی عقیدت کا مرکز قرار دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے صدر اور درگاہ کے سجادہ نشین کے جانشین سید نصیر الدین چشتی نے مذکورہ دعوے کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ہم اس کا جواب قانونی طور پر دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 1910 کی جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے اس میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کی بنیاد پر ساڑھے سات سو سال کی تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کے ذمہ داروں اور متعدد سیاست دانوں کی جانب سے ہر سال عرس کے موقع پر درگاہ پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے رواں سال جون میں نئی دہلی میں مسلمانوں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کی اور درگاہ پر چڑھانے کے لیے چادر پیش کی تھی۔ انھوں نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی لکھا تھا۔ وہ پہلے بھی چادر پیش کرتے رہے ہیں۔

سید نصیر چشتی نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کو روکے اور ایک گائیڈ لائن جاری کرے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ 1991 کے عبادت گاہ قانون کا احترام کیا جانا چاہیے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے مذہبی مقامات کی ہیئت تبدیل کرنے کی کوششوں پر سخت تنقید کی اور عدالتوں سے اپیل کی کہ وہ 1991 کے عبادت گاہ قانون کو نافذ کریں۔

Share This Article