یوکرین میں بجلی کی تنصیبات پر روسی حملوں کے سبب ملک کے مغربی حصوں لویو، ریوین اور وولن پر تازہ حملے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔
رواں ماہ میں ہونے والا یہ اس طرز کا دوسرا حملہ ہے۔ 17 نومبر کو بھی ایک ایسے ہی حملے میں روس نے یوکرین کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس میں 10 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ یوکرین نے گذشتہ ہفتے برطانوی اور امریکی ہتھیاروں سے روس پر حملہ کیا تھا اور ان کے ملک نے گذشتہ رات یوکرین پر 90 میزائلوں اور 100 ڈرونز کے ذریعے ان حملوں کا جواب دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں اہداف طے کرتے ہوئے ان مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کہ فیصلہ سازی کا مرکز ہوں۔
تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ روسی حملوں میں عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
خیال رہے کہ یوکرین نے روس کے خلاف جاری جنگ میں گذشتہ ہفتے پہلی مرتبہ برطانوی اور امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا، جس کے جواب میں روس نے یوکرین پر مزید حملے کیے ہیں۔
قزاقستان میں ایک سمٹ کے دوران صدر پوتن نے یوکرین پر حملوں کی تصدیق کی اور کہا کہ ’ہم نے جامع حملے کیے ہیں‘ جس میں 17 عسکری مقامات تباہ ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دنوں میں روس نے یوکرین کی طرف 100 میزائل اور 466 ڈرونز فائر کیے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ روس یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں فیصلہ سازی کے مراکز کو بھی ’اوریشنک‘ میزائل کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے۔
روس نے یوکرین پر حملے میں اپنے نئے ’اوریشنک‘ میزائل کا استعمال گذشتہ ہفتے بھی کیا تھا۔
قزاقستان میں امریکہ اور برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین اپنے ’اپنے آقاؤں سے عسکری سامان کی بھیک مانگ رہا ہے۔‘
صدر پوتن نے روس کی عسکری صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ہمارے کلیبر، کنزہل اور سرکون ہائپر سونک میزائل سسٹم کو نہ بھولے، جو کہ اپنی خصوصیات کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔‘
’ان کی پروڈکشن بڑھ گئی ہے اور پوری قوت سے جاری ہے۔‘
یوکرین کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ روس نے ملک کی بجلی کی تنصیبات پر راکٹوں سے ایک بڑا حملہ کیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی بنیادوں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔
رواں ماہ میں ہونے والا یہ اس طرز کا دوسرا حملہ ہے۔ 17 نومبر کو بھی ایک ایسے ہی حملے میں روس نے یوکرین کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس میں 10 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
یوکرینی حکام کے مطابق کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس حملے میں روس کی جانب سے میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔
وزیرِ توانائی نے ملک بھر میں بجلی کی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔
اس حملے میں شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں تاہم اس بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں۔
روس کی جانب سے یوکرین کے مغربی حصوں لویو، ریوین اور وولن پر تازہ حملے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔
یوکرین کے شہر خرکیو کے میئر کا کہنا ہے روسی شیلنگ میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ لٹسک کے میئر کا کہنا ہے کہ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور شہر کے ایک حصے کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔
یوکرین کے مغربی علاقے روین کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سے علاقے میں دو لاکھ 80 ہزار افراد کو بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق اوڈیسا میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمی اور وولن کے علاقوں میں بھی روسی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
یوکرینی حکام نے پاور گرڈ کو اوور لوڈ کے نتیجے میں نقصان سے بچانے کے لیے ایمرجنسی لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ شام تک جاری رہ سکتی ہے۔