اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینگے ، مودی کی چین کو انتباہ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ 15 جون کو وادی گلوان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ہونے والی جھڑپ پر انڈین وزیراعظم کا باقاعدہ طور پر پہلا بیان ہے۔

جمعرات کو ٹی وی پر اپنی تقریر میں نریندر مودی نے کہا کہ ’میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے جوانوں کی قربائی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے ملک کی سالمیت اور خودمختاری اور اتحاد سب سے اہم ہے۔۔۔۔ انڈیا امن چاہتا ہے لیکن اگر اسے اشتعال دلایا گیا تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور 15 ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے وزرائے اعلیٰ نے وادی گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

انڈین وزیراعظم کے دفتر نے اس تقریر سے قبل اس معاملے پر جمعے کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

نریندر مودی کی تقریر سے قبل انڈین حکومت کی جانب سے جھڑپ پر پہلا سرکاری بیان بدھ کو ہی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دیا۔

انھوں نے کہا کہ 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پریشان کن اور تکلیف دہ نقصان ہے اور ’قوم سرحد پر مارے جانے والے فوجیوں کی بہادری اور قربانی کبھی فراموش نہیں کرے گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انڈین حکام نے جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام اور دیگر تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ مرنے والوں میں ایک کرنل، تین نائب صوبیدار، تین حوالدار، ایک نائیک اور 12 سپاپی شامل ہیں۔

ادھر چین نے کہا ہے کہ اسے وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور انڈین فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول کی خلاف وزری کی تھی۔

لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں چین کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڑاو¿ لیجیان نے کہا ہے کہ ’وادی گلوان پر خودمختاری ہمیشہ سے چین کی ہی رہی ہے۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی معاملات پر ہمارے پروٹوکول اور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات پر طے شدہ اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں‘۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا‘۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال اب مستحکم اور قابو میں ہے۔

اس سے قبل چینی فوج کے ایک ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی کا بیان پی ایل اے کے مصدقہ ویبو اکاو¿نٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

اس بیان میں چانگ نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔

چینگ نے کہا: ‘انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مابین آمنے سامنے کا تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔’

منگل کی صبح بتایا گیا تھا کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک افسر سمیت تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم منگل کی شب انڈین فوج نے کہا کہ جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے مزید 17 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اور ہلاک شدگان کی کل تعداد 20 ہو گئی ہے۔

چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکت کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناو¿ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment