کرّم میں فرقہ وارانہ جھڑپیں، متعدد مکانات و دکانیں نذرِ آتش

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کے واقعات میں 40 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کا نتیجہ فرقہ وارانہ تصادم کی شکل میں برآمد ہوا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی شام سے سنی اور شیعہ قبائل کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

جمعرات کو لوئر کرم کے علاقوں بگن اور اوچت میں 200 گاڑیوں کے قافلے پر مسلح افراد نے چار مقامات پر حملہ کیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 44 افراد مارے گئے تھے جبکہ 39 زخمی ہوئے تھے۔

ان ہلاک شدگان اور زخمیوں میں سے اکثریت کا تعلق پاڑہ چنار اور اہلِ تشیع برادری سے تھا۔

جمعے کو پاڑہ چنار میں ہلاک شدگان کے جنازوں میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی تھی اور اس موقع پر جہاں پاڑہ چنار اور کئی دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے وہیں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔

کرم پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ہلاک شدگان کی تدفین کے بعد جمعے کی شام شیعہ اکثریتی علاقے علیزئی سے طوری قبائل کی جانب سے لشکرکشی کا آغاز ہوا اور اب لوئر کرم میں تین مقامات پر فریقین کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کا کہنا ہے کہ بگن میں لشکر کی جانب سے متعدد مکانات اور بگن بازار میں کئی دکانوں اور پیٹرول پمپ کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔

کرم پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بگن بازار میں مقامی قبیلے اور طوری لشکر کے مابین شدید لڑائی ہوئی ہے جبکہ بگن کے علاوہ مقبل اور کنج علیزئی جبکہ صدہ میں خارکلے اور بالشخیل میں بھی اہلِ سنت اور اہلِ تشیع قبائل کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ جمعرات کو مسافر گاڑیوں پر حملے میں ہلاکتوں کے خلاف شیعہ تنظیم مجلس وحدتِ مسلمین نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ جمعے کو کراچی میں احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے رہنماؤں نے ضلع کُرم سمیت خیبر پختونخوا بھر میں آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق ضلع کرم کے لوئر پاڑہ چنار کے علاقے میں اس وقت کئی مقامات پر موبائل انٹرنیٹ میں خلل ہے جبکہ کئی مقامات پر موبائل نیٹ ورک بھی صحیح سے کام نہیں کر رہا ہے جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو لوئر کرم کے علاقے مندروی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں پشاور سے پاڑہ چنار جانے والی 200 گاڑیوں کے قافلے پر متعدد مقامات پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ قافلہ اس سڑک پر سفر کر رہا تھا جسے اکتوبر میں مسافر گاڑیوں پر حملے کے واقعے کے بعد بند کر دیا گیا تھا اور کئی ہفتوں بعد حال ہی میں آمدورفت کے لیے کھولا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment