بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اور سرگرم ایوارڈیافتہ انسانی کارکن سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آواران میں جبری گمشدگی کے شکار دلجان بلوچ کی بازیابی کیلئے دھرنے پر بیٹھے لواحقین کو سیکیورٹی اہلکار انہیں احتجاج ختم کرنے کے لیے دھمکا رہے ہیں اور ہراساں کر رہے ہیں۔
سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ جون 12، 2024 کو آواران سے تعلق رکھنے والے دلجان بلوچ کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
https://twitter.com/SammiBaluch/status/1858792729565651094
انہوں نے کہا کہ دلجان کی بازیابی کے لیے ان کے اہلِ خانہ نے متعدد بار احتجاج کیا ہے اور اب ایک بار پھر آواران ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ انتظامیہ اور سیکیورٹی اہلکار ان کو احتجاج ختم کرنے کے لیے دھمکا رہے ہیں اور ہراساں بھی کر رہے ہیں، جبکہ دھرنے کے لیے لگائے گئے ٹینٹ کو بھی انتظامیہ اکھاڑ کر لے گئی ہے۔ لواحقین کل سے کھلے آسمان تلے دھرنا دے رہے ہیں۔
سمی بلوچ نے مزید کہا کہ اگر مین اسٹریم میڈیا بلوچستان کے وزیروں سے جبری گمشدگیوں کے بارے میں سوالات پوچھنے کے بجائے ان متاثرہ خاندانوں سے سوالات کرے تو انہیں حقیقت کا اندازہ ہوگا۔ لیکن آواران جیسے پسماندہ علاقے کے لوگ پاکستانی مین اسٹریم میڈیا کے لیے شاید کبھی توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔