بلوچستان کے علاقے آواران سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی شکار نوجوان دلجان بلوچ کی بازیابی کیلئےآج بروزپیر کو ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
احتجاجی ریلی کا انعقاد صبح 10 بجے آواران میں یو بی ایل چوک سے ڈی آفس تک کیا جائے گا۔
ا س سلسلے میں بلوچ وائس فار جسٹس نے ریلی کی حمایت کرتے ہوئے تمام انسان دوست سیاسی و سماجی کارکنوں، وکلاء، طلباء، صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی ریلی میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔
لواحقین نے دلجان کی بازیابی کے لیے آخری حد تک جانے کا عزم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ دلجان کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے یا اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے قانونی طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ہم اپنے پیارے کو انصاف دلوا سکیں۔
واضع رہے کہ دلاجان بلوچ کو آواران کے علاقے تیرتیج سے فوج نے 12 جون 2024 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تب سے ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔
دلجان بلوچ کی بازیابی کیلئے لوحقین کی جانب سے پر امن احتجاج کیا گیااور 3 سے 6 اکتوبر تک ڈپٹی کمشنر آواران کے دفتر کے سامنے تین دن تک دھرنا بھی دیاگیا۔دھرنے کے دوران ضلعی افسران اسٹنٹ کمشنر مجیب الرحمن، ضلعی پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، اور اورنگزیب بزنجو نے لواحقین سے ملاقات کی اور تحریری معاہدہ کیا کہ دس دن کے اندر دلجان کو رہا کر دیا جائے گا لیکن تاحال دلجان بلوچ بازیاب نہیں ہوسکے۔
گذشتہ ہفتے لواحقین نے آواران پر یس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوںنے لاپتہ دلجان کی بازیابی کیلئے آج بروز 18 نومبر کو احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔