بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ریڈ زون کے سخت سیکورٹی میں پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کیمپ کو نامعلوم افراد اکھاڑ کر لے گئے ۔
سوشل میڈیا پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ نے اپنے ایک لائیو ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آج پھر سے بلوچ لاپتہ افراد کیمپ کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔
واضع رہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وی بی ایم پی کا کیمپ گذشتہ 15 سالوں سے جاری ہے جو موسم سرما میں کراچی اور موسم گرما میں کوئٹہ میں منتقل کیا جاتا ہے اور کھبی کھبی تو سخت سردی میں بھی کوئٹہ میں جاری رہتا ہے ۔
اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ریاستی اداروں کی جانب سے کیمپ کو نقصان پہنچایا گیا۔
متعدد بار کیمپ کونذر آتش کیاگیا،لاپتہ افراد کی تصاویروں کو نقصان پہنچایا گیا تاکہ کیمپ کو مکمل طور پر بند کیا جاسکے لیکن اس طرح کے حربے ماما قدیر کے حوصلوں پست نہیں کرسکے اور ہر بار کی طرح کیمپ کو دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک ہفتے قبل کیمپ کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کیا تھا جسے دوبارہ قائم کیا گیا ہے اور آج پھر سے اسے مکمل اکھاڑ کر لے جایا گیا ہے ۔
ریاستی اداروں کے حلقو ں کا کہنا ہے کہ برسوں سے جاری بلوچ لاپتہ کیمپ عالمی سطح پر پاکستان اور پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے لئے شرمندگی کا باعث بن رہی ہے ۔
ماما قدیر کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہناتھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کیمپ کو اکھاڑنے پیچھے کون ہے لیکن ان کے اس طرح کے حربوں سے نہ ہم پہلے ڈرے ہیں اور نہ ہی اب خوفزدہ ہیں۔یہ کیمپ دوبارہ قائم ہوگا۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کیمپ کو اکھاڑ کر لے جانے والے نامعلوم افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھنائونے حرکات سے باز آجائیں ورنہ ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے تو میں ان کا نام میڈیا میں ظاہر کردوں گا ۔
ماما قدیر نے کہا کہ اس دفعہ وہ کیمپ کو نذر آتش کرنے کے بجائے پورا اکھاڑ کر لے گئے ہیں۔
واضع رہے کہ ماما قدیر سمیت تمام لاپتہ افراد کو ریاستی اداروں کی جانب سے سخت تھریٹس کا سامنا ہے اور مختلف اوقات میں ریاستی اداروں کے آفیسر خود ان سے رابطہ کرکے یا پیغام بجھوا کر انہیں تھریٹ کرتے رہتے ہیں۔