بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی فوج کی جانب سے علاقے میں بڑے پیمانے پر فوج کشی جاری ہے ۔
اطلاعات ہیں کہ تحصیل دشت میں دکانیں اوراسکولیں بند کردی گئی ہیں اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔
علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ موبائل نیٹورک سمیت علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو بھی مکمل بند کردیا گیا ہے ۔
کہا جارہا ہے کہ فوج کی بڑی تعداد میں نقل عمل سمیت ہیلی کاپٹروں کی بھی پروازیں جاری ہیں جس سے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے اور وہ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔
دوران فوج کشی 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جن کا کوئی خبرنہیں ہے ۔
جبری لاپتہ کیئے گئے نوجوانوں کی شناخت طلال ولد عمر سکنہ دشت کھڈان اور عامر بلوچ ولد ابراھیم کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
واضع رہے کہ گزشتہ شب ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں مسلح افراد نے فورسز کے ایک کیمپ پر حملہ کیا تھا ۔جس سے فورسزکو بڑے پیمانے پر نقصانات پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں لیکن اب تک اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول کی تھی۔
گذشتہ شب کے حملے کے بعد فورسز نے آپریشن کے نام پر مذکورہ علاقے میں فوج کشی شروع کردی ہے اور کرفیو نافذ کردیا ہے ۔
گھر گھرتلاشی کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
مواصلاتی نظام کی بندش سے تفصیلات تک مزید کا رسائی ممکن نہیں ہوپائی ۔