ضلعی کونسل حب کے وائس چیئرمین کی جبری گمشدگی کیخلاف پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلعی کونسل حب کے وائس چیئرمین کمال خان محمد حسنی کی جبری گمشدگی کیخلاف ساکران یکجہتی کمیٹی کے چیئرمین لالہ مری نے جبری لاپتہ وائس چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کمال خان محمد حسنی کے بھائی عندالناصر محمد حسنی ،خالد لاکھو اور ممتاز جلبانی کے ہمراہ نے اتوار کے روز لسبیلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وائس چیئرمین ضلع کونسل حب گزشتہ 4دنوں سے ہمدردیورسٹی پولیس چوکی کی حدود سے غائب ہیں اور فون بھی مسلسل بند جارہا ہے چار دن گزرنے کے بعد بھی انکا کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔

انھوں نے کہا کہ کمال خان محمد حسنی ساکران کے معزز شخصیت کے ساتھ ساتھ وائس چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین اور عوامی نمائندے ہیں جو 7نومبر 2024ء کو جمعرات کی شام ہمدردی یونیو رسٹی روڈ سے اپنے گھر کراچی جارہے تھے کہ ہمدردی یونیو رسٹی پولیس چوکی ایریا سے پُر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ کمال خان محمد حسنی کو مبینہ طور پر لاپتہ کر کے نجی قید خانہ میں بند کردیا گیا ہے اور کیا پتہ ان پر تشدد بھی کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمال خان محمد حسنی کے لاپتہ ہونے کے بعد انکے بھائی عبدالناصر دیگر اہلخانہ کے افراد اور دوستوں بہی خواہوں کے ہمراہ کراچی کے مختلف تھانوں منگھو پیر موچکو ،گارڈن سعید آباد سمیت دیگر پولیس تھانوں کا رات بھر چکر کاٹے اور کراچی پولیس افسران نے انہیں معلومات دینے کے بعد ان سے غیر مناسب روایہ اختیار کیا اور کراچی کے مختلف پولیس تھانوں میں چکر کاٹنے کے بعد چار دن گزر گئے لیکن کمال خان محمد حسنی کا کوئی سراغ نہیں مل رہا جوکہ تشویشناک بات ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کمال خان محمد حسنی نے کوئی جرم کیا ہے اور ان پر کوئی کیس ہے تو انہیںمنظر عام پر عام لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے کیونکہ ان کے لاپتہ ہونے کے بعد اہلخانہ کافی پریشانی کا شکار ہیں ۔

انھوں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمال خان حسنی 7نومبر کو جمعرات کی شام سے غائب ہیں اور انکا اہلخانہ سے رابطہ منقطع ہونے کے فوری بعد انکا تلاش شروع کی کوئی معلومات مل نہیں پارہا کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے اور کراچی پولیس تھانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے کہاکہ حب میں کراچی پولیس کا داخل ہونا اور لوگوں کو لے جانا ایک روایت بن گئی ہے گزشتہ دنوں کراچی پولیس نے سیشن کورٹ پر دھاوا بول دیا اور اندر داخل ہو گئے اور حب کے معزز ین کو لے جانے کی کوشش کی۔

انھوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان ،وفاقی وزیر جام کمال خان ، مشیر میر علی حسن زہری اور ایس پی ،DCحب سمیت سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے اور کمال خان محمد حسنی کو منظر پر لانے کا مطالبہ کیا ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment