جرمنی میں  مخلوط حکومت کا اتحاد ختم ،دوبارہ الیکشن کا امکان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جرمنی میں مخلوط حکومت کا اتحاد ختم ہوگیا ہے اب دوبارہ الیکشن کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

جرمن چانسلر اولاف شولس کی قیادت والی مخلوط حکومت میں شامل فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پي) نے اپنی حمایت واپس لے لی ہے اور اس طرح حکمران اتحاد سیاسی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے اب قبل از وقت نئے عام انتخابات ہونے کا بھی امکان ہے۔

یہ سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا، جب اقتصادی امور پر شدید اختلافات کی بنا پر چانسلر اولاف شولس نے اپنے وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈنر کو برطرف کر دیا۔ شولس نے کہا کہ انہیں وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈنر پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔

اس اعلان کے فوری بعد ایف ڈی پی نے شولس کی کابینہ میں شامل اپنے تمام وزرا کے استعفے سونپ دیے اور حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔

ایف ڈی پی کے پارلیمانی گروپ کے رہنما کرسٹیان لنڈر نے برلن میں اعلان کیا کہ سن 2021 کے اواخر میں تشکیل کردہ تین جماعتوں پر مبنی اتحاد کو وہ باضابطہ طور پر ختم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چانسلر شولس کی قیادت والی مخلوط حکومت، ان کی اپنی جماعت سوشل ڈیموکریٹس، ایف ڈی پی اور گرینز کے ساتھ اتحاد پر مبنی ہے، جو 2021 سے ہی حکومت کرتا رہا ہے۔ اس اتحاد کا نام "ٹریفک لائٹ” رکھا گیا تھا۔

حکومت سے حمایت واپس لینے کا کا مطلب یہ ہوا کہ شولس کی حکومت کو اب پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں رہی۔ چانسلر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ جنوری میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتے ہیں، جس سے مارچ تک قبل از وقت انتخابات کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔

چانسلر شولس نے کہا کہ 15 جنوری 2025 کو ان کی حکومت پر اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا۔ اس اقدام سے جرمنی کے پارلیمانی انتخابات، جو 2025 کے موسم خزاں میں ہونے طے تھے اب شیڈول سے چھ ماہ قبل مارچ 2025 میں ہونے کا امکان ہے۔

چانسلر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ اراکین پارلیمنٹ "یہ فیصلہ کر سکیں کہ قبل از وقت انتخابات کا راستہ ہوار کیا جا سکے۔ "

ٹریفک لائٹ اتحاد کے اندر بحران نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو سیاسی افراتفری میں ڈال دیا ہے اور ٹرمپ کی فتح کے چند گھنٹوں بعد ہی اس پیش رفت نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت اور اس کی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔

کہا جا رہا ہے کہ بدھ کی رات کو اختلاف منظر عام پر آنے سے پہلے سے ہی اندرونی تناؤ ہفتوں سے ابل رہا تھا۔

چانسلر شولس نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سابق وزیر خزانہ نے "میرے اعتماد کو دھوکہ دیا” اور اپنی پارٹی کے بنیادی مفادات کو ملک کے مفادات پر ترجیح دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی کو یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ دوسرے ممالک، خاص طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد، بھی اس پر انحصار کر سکتے ہیں۔

ادھر لِنڈنر نے شولس پر یہ الزام لگایا کہ وہ "جرمنی کو غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا رہے ہیں۔”

Share This Article
Leave a Comment