اسرائیل نے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے سے معاہدہ ختم کر دیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اسرائیل نے گذشتہ روز پیر چار نومبر کے روز کہا کہ اس نے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کی امداد کرنے والے ذیلی ادارے اونروا سے معاہدہ ختم کر دیا ہے۔

اسی دوران غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد اب تقریباً 43 ہزار 400 ہو گئی ہے۔

اسرائیل میں گزشتہ ماہ پارلیمان نے ایک ایسا مسودہ قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امداد کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اونروا (UNRWA) کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور اسے اسرائیل میں کام کرنے سے روک دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اب اسرائیلی حکومت نے اونروا کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کا جو اعلان کیا ہے، وہ اسی اسرائیلی قانون سازی پر عمل درآمد کی طرف ایک قدم ہے اور عالمی ادارے کی اس ذیلی تنظیم کے ساتھ اسرائیل آئندہ اپنے تمام روابط اور تعاون ختم کر دے گا۔

اسرائیلی حکومت نے اپنے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے جنگجو اس ادارے کی صفوں میں گھس چکے ہیں۔ اس اسرائیلی الزام کی اونروا کی طرف سے بھرپور تردید کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے اس ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رکھے ہیں۔

اسرائیل امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے رکن کئی دیگر ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود ابھی تک اس امر پر آمادہ نہیں کہ غزہ پٹی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں فائر بندی کی جائے۔ اس کے برعکس اسرائیل اب لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائی اس قدر وسیع کر چکا ہے کہ اس کا دائرہ کار صرف اسرائیلی لبنانی سرحد تک ہی محدود نہیں بلکہ اسرائیلی افواج لبنان کے اندر تک عسکری کارروائیاں کر رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment