پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بی 52 طیاروں کو ایران کو ’خبردار‘ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سینٹرل کمانڈ آف یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ (سینٹکام) نے بھی اپنے ایکس اکاوئنٹ پر ایک پیغام میں اِن بمبار طیاروں کی مشرق وسطیٰ میں آمد کی تصدیق کی ہے۔
تاہم فی الوقت یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ بھیجے گئے اِن طیاروں کی تعداد کتنی ہے اور انھیں کس مقام پر اکھٹا کیا گیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو پینٹاگون نے بیان جاری کیا تھا کہ بی 52 بمبار طیاروں کو مشرق وسطیٰ میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس کے علاوہ وہ طیارے بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں جو دیگر طیاروں کی ری فیولنگ یعنی ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
حالیہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی نیوی کے وار شِپ (جنگی جہاز) بھی روانہ کیے گئے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی مضبوط ہو سکے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں امریکی اہلکاروں یا امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کےخلاف سخت اقدام لے گا۔
پینٹاگون کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے بھی کہا ہے ’امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں، امریکی افواج اور اسرائیل کے دفاع اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے خطے میں مزید کئی سٹریٹجک بمبار اور اینٹی بیلسٹک میزائلوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ دنوں ایران میں کئی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر ایران نے اسرائیل سے بدلہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔
اپنے ایک حالیہ بیان میں ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا ہے کہ دشمنوں کو ’منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے حملوں کے بعد جو بھی ردعمل ہو گا وہ ’مذہب، اخلاق، شریعت اور بین الاقوامی قوانین‘ کے مطابق ہو گا۔
آٹھ انجن والے بی 52 کو 20ویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی تین نسلوں نے اڑایا ہے۔ اس کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی چھ دہائیوں قبل اس کی پہلی اڑان میں تھی۔
ویت نام سے لے کر افغانستان تک ہونے والی جنگوں میں اس طیارے کا استعمال کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ سنہ 2044 تک یہ امریکی فضائیہ کے استعمال میں رہے گا۔ سنہ 2018 میں بی 52 بمبار طیاروں کا دوبارہ استعمال شروع کیا گیا تھا اور اُن کے ذریعے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سنہ 2001 میں بھی بی 52 بمبار طیاروں کو افغانستان میں استعمال کیا گیا تھا جب امریکی فوج کا مقصد طالبان کی حکومت کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحد کے قریب تورہ بورہ کے پہاڑوں میں القاعدہ کے رہمنا اسامہ بن لادن کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنا تھا۔
اس جہاز نے ویتنام جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کی جنگی مہمات میں کامیابی سے حصہ لیا ہے۔ اگرچہ امریکی فضائیہ کے یہ طیارے کافی پرانے ہو گئے ہیں مگر آج بھی امریکہ نے کسی کو پیغام پہنچانا ہو تو بی 52 بمبار طیارے بھجوائے جاتے ہیں۔