کشمیر: بھارتی فورسز ہاتھوں پاکستانی کمانڈر سمیت 3شدت پسند ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

 کشمیر میں بھارتی فورسز کے آپریشن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا کمانڈر سمیت 3 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کالعدم لشکرِ طیبہ کے مبینہ کمانڈر کو ہلاک کیا گیاہے۔

ہفتے کی صبح سری نگر کے خان یار علاقے میں مشتبہ شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپ شام تک جاری رہی۔

عہدیداروں کے مطابق دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شدت پسند ہلاک اور چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فورسز کے آپریشن کے دوران نجی مکان میں آگ لگ گئی جب کہ اس سے پہلے دھماکوں کی آواز دور دور تک سنائی دی۔

ایک پولیس عہدیدار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کو صبح گیارہ بجے کے قریب خان یار میں لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر آپریشن شروع کیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں جموں و کشمیر پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے دو اور وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے دو اہلکار زخمی ہوئے جب کہ ایک شدت پسند کی گولیوں سے چھلنی لاش بھی ملی ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والےشدت پسند کی شناخت لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر عثمان بھائی کے طور پر ہوئی ہے اور وہ ایک پاکستانی شہری تھا۔

اسی طرح ہفتے کو ہی وادیٔ کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے لارنو شانگس علاقے میں بھی شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس میں عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے 2 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک مقامی کشمیری اور دوسرا غیر ملکی باشندہ شامل ہے۔

Share This Article
Leave a Comment