بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں سیکورٹی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلا خوف و خطراور دن دہاڑے بلوچ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ گھمبیرتاکے ساتھ تیزی سے جاری ہے ۔
خضدار کے رہائشی طالبعلم کوفورسز نے کراچی سے جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
خضدار کے علاقے نال سے تعلق رکھنے والے اشفاق ولد خالق داد جوکہ جامعہ ستاریہ کراچی کا طالبعلم ہے، انہیں 16 اکتوبر کی رات 8 بجے ساتھیوں سمیت اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا ہے جنکی بازیابی کیلئے سرکاری حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے لواحقین نے مدد کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب پنجگور سے جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری احتجاجی ریلی سے حسیب بلوچ نامی ایک طالب علم کو سرعام جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاگیا۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ و سرگرم انسانی حقوق کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے پورے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگی کے خلاف تحریک میں آج (جمعرات)پنجگور میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
ان کا کہان تھا کہ ریلی کے شرکاء کو ڈیٹھ اسکوارڈ اور اور کارندوں نے ہراساں کیا اور طالب علم حسیب بلوچ کو سرعام جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد جمہوریت کے دعویدار بلوچستان میں جاری اپنے بدمعاشوںکی گنڈہ گردی کے جرم میں برابر کے شریک ہے۔
دریں اثنا خاران سے جبری طور پر 2لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق اگست کے مہینے میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے خاران کے رہائشی نوجوان شہزاد محبوب ملازئی اور خدائے رحیم داودی دو مہینے کے بعد بازیاب ہوکر منظر عام پر آگئے۔
واضع رہے کہ دونوں نوجوان کی جبری گمشدگی کیخلاف لواحقین نے احتجاجی دھرنا بھی دیا تھا جبکہ اب تک دیگر نوجوانوں کی جبری گمشدگی کیخلاف خاران ریڈزون میں احتجاجی دھرنے کا سلسلہ تاہم جاری ہے۔