بلوچستان کے علاقے خاران میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار عبید اللہ بلوچ کی بازیابی کے لئے دھرنا آج دوسرے روزبھی جاری رہے۔
دھرنا خاران شہر میں ریڈ زون میں جاری رہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عبید اللہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیاجائے۔
مقامی ذرائع کے مطابق عبید اللہ بلوچ کو پانچ دن قبل فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیااور اب اس کے حوالے سے خاندان کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ عبید اللہ بلوچ کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو احتجاج میں مزید شدت لائی جائے گی۔
انہوں نے خاران کے باشعور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور لاپتہ عبید اللہ کی بازیابی کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "عبید اللہ بلوچ کو رہا کرو” اور "جبری گمشدگیاں بند کرو” جیسے نعرے درج تھے۔