انقرہ میں دفاعی تنصیب پر حملے کے بعد کردوں کیخلاف کارروائیاں شروع

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ترکیہ نے بدھ کو دفاعی تنصیب پر ہونے والے حملے کے بعد کالعدم قرار دینے والی آزادی پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف عراق اور شام میں کارروائی کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ انقرہ میں ایوی ایشن سائٹ پر حملے کے جواب میں عراق اور شام کے شمالی علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل ترکیہ کے وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے کہا تھا کہ انقرہ حملے کے منصوبہ ساز ممکنہ طور پر کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان ہیں۔

بدھ کو ترکیہ کی ایرو اسپیس انڈسٹری کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے تھے جب کہ حکومت نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی تھی۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا تھا کہ ایرو اسپیس انڈسٹری کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والوں کی تعداد دو تھی جنہیں جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ایردوان نے 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کا ذمے دار بھی گولن کو قرار دیا تھا۔

ترک وزیرِ داخلہ نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرز سے حملہ کیا گیا، اس طرح کے حملے کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان کرتے ہیں۔ البتہ حملہ آوروں کی شناخت اور شواہد جمع کرنے کے بعد مزید معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

ترکیہ اکثر شام اور عراق میں ان اہداف کو نشانہ بناتا رہا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ کردستان ورکرز پارٹی یا PKK سے وابستہ ہیں۔

پی کے کے کالعدم قرار دینے والی ایک کرد آزادی پسندتنظیم ہے جس نے 1980 کی دہائی سے ترکیہ کے خلاف بغاوت کر رکھی ہے اور اس تنازع پر اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment