پاکستان : سال 2020-21 کاخسارہ بجٹ پیش،تنخواہوں میں نہیں ، دفاع میں اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان میں آج تحریک انصاف کی حکومت کی دورِ حکومت کے دوسرے بجٹ میں مالی سال 2020-21 کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جو 34 کھرب 37 ارب خسارے کا بجٹ ہے۔

وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ تجاویز پیش کیں جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم تنخواہوں میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں ایک اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہے۔

اس مالی سال میں دفاعی بجٹ میں گذشتہ سال ابتدا میں بجٹ میں مختص کی گئی رقم میں 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاہم گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں یہ 61 ارب کا اضافہ ہے۔

ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس بجٹ کا کل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس میں سماجی تحفظ کے دیگر پروگرام جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

گذشتہ برس ابتدا میں پیش کیے جانے والا دفاعی بجٹ 11 کھرب 52 ارب کا تھا جس میں اسی برس بعد میں ترمیم کر کے اسے 12 کھرب 27 ارب کر دیا گیا تھا۔

تاہم اس برس یہ رقم بڑھا کر 12 کھرب 89 ارب کر دی گئی ہے۔

اس طرح سال 2019-20 میں ابتدائی بجٹ میں مختص رقم میں یہ 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہے۔

حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایچ ای سی کو گذشتہ برس کے مقابلے پانچ ارب اضافے کے ساتھ 64 ارب روپے دیے گئے ہیں۔

اسی طرح کورونا وائرس سے متعلقہ 61 اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیصی کٹس پر ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کر دی گئی ہے۔

کورونا سے متعلقہ صحت عامہ کی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ میں تین ماہ کی توسیع بھی کی گئی ہے جبکہ جان بچانے والی دوا مگلمائن انٹی مونیٹی پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق درآمدی سگریٹس، الیکٹرانک سگریٹس، بیڑی، سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیا پرعائد ایف ای ڈی میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

کیفین پر مشتمل درآمد شدہ اور مقامی مشروبات پر ایف ای ڈی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

ساتھ ہی ڈبل کیبن پک اپ پر ایف ای ڈی کا نفاذ کیا گیا ہے اور اس پر بھی دیگر گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اسلام آباد میں اقتصادی مالی سروے 2019-20 پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا۔

انھوں نے کہا کہ کورونا کی وبا سے قبل معاشی ترقی کی شرح تین فیصد سے بڑھنے کی امید تھی تاہم مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبہ متاثر ہوا اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح منفی 3.4 فیصد ہے۔

وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے آج پیش کیے جانے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment