امریکہ نے اسرائیل کو لکھے گئے خط میں اسے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی بڑھانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی ہے بصورتِ دیگر اسے ملنے والی امریکی فوجی امداد میں کمی کا خدشہ ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اتوار کو بھیجا جانے والا یہ خط امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ بڑا انتباہ ہے اور یہ خط ایک ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے جب شمالی غزہ میں اسرائیل کے نئے حملے جاری ہیں جن میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
خط میں امریکہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ماہ شمالی غزہ سے جنوبی علاقے کی جانب جانے والی 90 فیصد انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالی یا تاخیر کے اسباب بنائے اور یہ کہ امریکہ کو غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل اس خط کا جائزہ لے رہا ہے اور ان کا ملک اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتا ہے اور امریکہ کی جانب سے ٌظاہر کیے گئے خدشات دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ شمال میں انسانی امداد کے داخلے میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا بلکہ حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
پیر کے روز غزہ کراسنگ کے انتظام کے ذمہ دار اسرائیلی فوجی ادارے کوگٹ نے کہا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی امداد لے جانے والی 30 گاڑیاں ایریز کراسنگ کے ذریعے شمالی غزہ میں داخل ہوئیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق دو ہفتے بعد یہ امداد شمالی غزہ میں داخل ہو پائی ہے اور وہاں مقیم چار لاکھ فلسطینیوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا ختم ہو رہی ہیں۔
امریکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسرائیلی فوج نے گذشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں حماس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ طیاروں، گائیڈڈ بموں، میزائلوں اور گولوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔