اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں خوراک کی آخری رسد بھی بے گھر لوگوں میں تقیسم کی جا چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے بروز ہفتہ کہا ہے کہ اکتوبر کے آغاز سے اب تک شمالی غزہ میں خوراک کی کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔ فلسطینی علاقوں کے لیے ڈبلیو ایف پی کے ڈائریکٹر انٹون رینارڈ نے کہا، شمال (تک رسائی) بنیادی طور پر منقطع ہے اور ہم وہاں کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘
یہ بیان اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے ادارے یو این ایچ سی آر کے سربراہ فلپے لارزینی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کم ازکم چار لاکھ افراد شمالی غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ڈبلیو ایف کا کہنا تھا کہ وہ شمالی غزہ میں اپنے زیر انتظام فوڈ ڈسٹری بیوشن پوائنٹس، کچن اور بیکریاں اسرائیلی فضائی حملوں، زمینی کارروائیوں اور انخلاء کے احکامات کی وجہ سے بند کرنے پر مجبور ہے۔
ڈبلیو ایف پی نے یہ بھی کہا کہ اس علاقے میں ڈبوں میں بند کھانے، آٹا، ہائی انرجی بسکٹ اور غذائی سپلیمنٹس کی آخری بچ جانے والی رسد بھی پہلے ہی تقسیم کر دی گئی ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی غزہ میں ڈبلیو ایف پی کی جانب سے فراہم کی گئی باقی ماندہ خوراک، جو پہلے ہی پناہ گاہوں اور صحت کی سہولیات میں لوگوں کو تقسیم کی جا چکی ہے، کب تک چلے گی۔‘‘
امداد کی تقسیم کی نگرانی کرنے والےاسرائیل کے فوجی ادارے COGAT نے بدھ کو اس بات کی تردید کی تھی کہ وہ شمالی غزہ میں خوراک کے داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ اس ادارے نے ایک بیان میں کہا، اسرائیل نے اپنی سرزمین سے شمالی غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد کے داخلے کو نہیں روکا ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس بات کے ثبوت کے طور پر وہ شمالی غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے کی اجازت دیتا رہے گا۔
غزہ میں بھوک کے بحران پر تشویش ایک بار پھر اس وقت ابھری ہے، جب اقوام متحدہ کے خوراک کے حق سے متعلق آزاد تفتیش کار مائیکل فخری نے اگست میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف ”بھوک کی مہم‘‘ چلانے کا الزام لگایا تھا۔
اسرائیل نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں امداد کی فراہمی کو روکا یا سست کیا ہے۔