بلوچستان سمیت پاکستان بھر سے پاکستانی فوج وخفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری گمشدگی کا غیر انسانی و غیر قانونی عمل دیدہ دلیری و بغیر کسی جوابدہی کے جاری ہے ۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور اور بلوچستان کے شہر خضدار سے پاکستانی فورسز نے 4 بلوچ طلبا کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا بعد ازاں ایک کو چھوڑ دیا گیا۔
لاپتہ کئے جانے والے طلبا کی شناخت اکرام مینگل ، شمریز بادینی ،دیدگ بلوچ اور مسلم اختر سمالانی کے ناموں سے ہوگئی ہے جن میں اکرام مینگل کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔
لاہور سے اطلاعات ہیں کہ رات گئے فورسز نے ایک ہاسٹل پر چھاپہ مار کر بلوچستان کے رہائشی دو طالب علموں کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
اسی طرح گزشتہ شب تقریباً ایک بجے نوشکی سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی آف لاہور میں بی ایس اکنامکس کے تیسرے سیمسٹر کے طالب علم بجے دیدگ بلوچ ولد یونس بلوچ کو ان کی رہائش گاہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
بلوچ کونسل پنجاب کے مطابق پاکستانی فورسز نے پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم اکرام مینگل اور سپیریئر یونیورسٹی لاہور کے طالب علم شمریز بادینی کو غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم بلوچ طلباء کے خلاف ایسی غیر قانونی اور پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی بحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بلوچ طلباء کی جانب سے پاکستانی فورسز اور پنجاب پولیس کے ہاتھوں دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے ویڈیو فوٹیج بھی بھی شائع کئے گئے جہاں پنجاب پولیس اور سول کپٹروں میں ملبوس مسلح افراد کو دیکھا جاسکتا ہے۔
تاہم بعدازاں پاکستانی فورسز نے اکرام مینگل کو چھوڑ دیا جبکہ شمریز بادینی تاحال لاپتہ ہیں۔
ادھر بلوچستان کے ضلع خضدار سے اطلاعات ہیں کہ گذشتہ روز صبح11 بجے کے قریب پاکستانی فورسز نے خضدار کوڑاسک کے مقام سے ایک نوجوان مسلم ولد اختر سمالانی کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
طلبا کی جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نوشکی زون کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نوشکی سے تعلق رکھنے والے طالب علم شمریز بلوچ ولد ماسٹر فرید بلوچ، سپیریئر یونیورسٹی میں قانون (Law) کے چوتھے سیمسٹر کے طالب علم ہیں، جبکہ دیدگ بلوچ ولد یونس بلوچ یونیورسٹی آف لاہور میں بی ایس اکنامکس کے تیسرے سیمسٹر کے طالب علم ہیں۔ انہیں گزشتہ شب تقریباً ایک بجے ان کی رہائش گاہوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے بلوچ طلباء کے لیے تعلیمی دروازے مزید بند کررہے ہیں۔ طلباء کو جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا بھی سامنا ہے۔ نسلی تعصب کی بنیاد پر آئے دن بلوچ طلباء کی رہائش گاہوں پر بلاوجہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس غیر قانونی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور پُرامن جدوجہد کا حق رکھتی ہے۔