مجھے سعودیہ کو اسلحے کے فروخت کی تحقیقات پر بر طرف کیا گیا، سابق امریکی عہدیدار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی محکمہ خارجہ کے برطرف انسپکٹر جنرل نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ محکمے نے گزشتہ ماہ ان کی برطرفی سے قبل سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کی تحقیقات کی حوصلہ شکنی کی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق محکمہ خارجہ کے سابق انسپکٹر جنرل اسٹیو لینک نے قانون سازوں کو بتایا کہ ان کے محکمے کی جانب سے سعودی عرب کو فروخت کیے جانے والے اسلحے کی تحقیقات کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں گزشتہ ماہ اس معاملے کیا وجہ سے برطرف کیا‘۔

انسپکٹر جنرل اسٹیو لینک کو 15 مئی کو برطرف کردیا گیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اسٹیو لینک کی برطرفی غیر قانونی قرار دی تھی۔

ڈیموکریٹس نے ان کی برطرفی کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں 3 جون کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی 3 کمیٹیوں کے اراکین نے اسٹیو لینک کا انٹرویو کیا تھا۔

کانگریشنل انٹرویو میں اسٹیو لینک نے کہا کہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کانگریس کے اعتراضات کے باوجود سعودی عرب کو 8 ارب ڈالر کے عسکری سامان کی فروخت کے حق میں’نیشنل ایمرجنسی‘ کے اعلان کے فیصلے پر انتظامیہ کی تحقیقات کا سامنا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محکمے کے ایک عہدیدار نے یہ جواز پیش کیا کہ تحقیقات اسٹیو لینک کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

اسٹیو لینک نے کہا کہ ’میں نے انہیں بتایا تھا کہ 1980 کے فارن سروس ایکٹ کے تحت آئی جی کے دائرے میں ہے کہ وہ پالیسی کے نفاذ کا جائزہ لے‘۔

دوسری جانب مائیک پومپیو نے زور دے کر کہا کہ اسٹیو لینک کی برطرفی انتقامی کارروائی نہیں تھی۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے اسٹیو لینک کو ’برا اداکار‘ قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں محکمہ کے ایک اعلی عہدیدار نے اسٹیو لینک کے دفتر میں معیارات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے خلاف معلومات لیک ہونے پر تفتیش کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ اسٹیو لینک کےخلاف معلومات لیک کرنے کا الزام پہلے بھی لگا تھا لیکن پچھلی تحقیقات میں وہ بے گناہ ثابت ہوئے۔

ریپبلکن اراکین کی اکثریت پر مشتمل امریکی سینیٹ نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو 8 ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی مخالفت کی تھی۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو 8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے پر کانگریس کے عائد کردہ اعتراضات مسترد کردیے تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریشنل کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو 22 فوجی اشیا فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ ٹرمپ حکومت نے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ایران کو بنیادی خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلحہ فروخت کی منظوری کے لیے کانگریس کو بائی پاس کیا تھا۔

اس حوالے سے مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ حکومت ایران کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت کرنے کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال پر ردِ عمل دے رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment