امریکی محکمہ دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے منگل کو داغے کیے گئے میزائل مار گرانے میں اس نے اسرائیل کی مدد کی ہے۔
اس سے قبل، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی ہدایات پر امریکہ نے ’براہِ راست‘ اسرائیل کے دفاع میں مدد کی۔ ان کے مطابق انھوں نے (امریکی وقت کے مطابق) منگل کی صبح سچویشن روم میں گزاری – جو وائٹ ہاؤس میں وہ جگہ ہے جہاں قومی سلامتی کے اہم امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 180 کے قریب میزائل داغے گئے جن میں سے اکثر کو پسپا کر دیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ’فیصلہ کن ردِ عمل‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا ’ایران کے مفادات اور اس کے شہریوں کے دفاع‘ میں کیا گیا ہے۔