اسرائیل پر ایران کا حملہ، غلطی کی خمیازہ بھگتنا پڑے گا، نیتن یاہو

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران نے اسرائیل پر 200 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے گئے جس کے بعد تل ابیب سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے، میزائل حملوں کے بعد اسرائیلیوں نے بنکرز میں پناہ لی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور شیرون میں راکٹ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے بتایاکہ میزائل حملوں کے دوران شیلٹرز میں جانے کیلئے بھگدڑ میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فضائی حدود بند کردی گئیں اور ہوائی اڈوں پر موجود تمام مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

تہران ٹائمز کے مطابق ایران نے میزائل حملوں میں اسرائیل کے ایف 35 جہازوں کے اڈے نیو اٹم ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

ایران کی جانب سے اسرائیل پر کروز میزائل حملے کے بعد اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ایران نے اسرائیل کو سمجھنے میں غلطی کی ہے، وہ نہیں جانتے کہ اسرائیل اپنا دفاع اور جوابی کارروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو غلطی ایران نے کی اُس کے نتائج کے بارے میں بہت جلد اُسے اندازہ ہو جائے گا۔ ہم اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور بس اتنا واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو بھی ہم پر حملہ کرے گا ہم اس پر جوابی حملہ کریں گے۔‘

دوسری جانب ایران کی جانب سے منگل کی رات اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد رات گئے تہران کی سڑکوں پر جشن منایا گیا۔

ان مجمعوں میں موجود اکثر افراد نے ایران اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور ان پر حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی تصویر موجود تھی جو گذشتہ جمعے کو لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

تصاویر میں کچھ افراد کو آتش بازی بھی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment