بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرزکی شہر تربت میں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ گذشتہ 10 سالوں سے جبری لاپتہ اسکول ٹیچر رفیق اومان کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
اسکول ٹیچر رفیق اومان کی جبری گمشدگی کو دس سال پورا ہونے پر ان کی بیٹیوں نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ آج رفیق اومان کو لاپتہ ہوئے 10 سال مکمل ہو چکے ہیںمگر تاحال ان کی کوئی خیر خبر نہیں دی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خدارا رفیق اومان کو بازیاب کر کے ہمیں اس طویل اذیت سے نجات دی جائے یا انھیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تک نہیں پتا کہ وہ زندہ ہے بھی کہ نہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت انھیں فوری بازیاب کرے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں ۔
پریس کانفرنس کے دوران رفیق کی چھوٹی بیٹی بیہوش ہوگئی تھی۔
یاد رہے کہ رفیق اومان کو 21 ستمبر 2014 کو تربت میں سرکاری کام کرکے واپس جاتے ہوئے لاپتہ کیا گیا۔