اسلام آباد : پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ فیضان بلوچ بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والا 18 سالہ بلوچ طالب علم فیضان عثمان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

فیضان کی بازیابی کی تصدیق اس کے والد عثمان بلوچ نے سوشل میڈیا فلیٹ فارم ایکس پراپنے ایک پوسٹ کیاہے۔

‎عثمان نے بلوچ قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اپنی پوری قوم اور ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

واضع رہے کہ فیضان عثمان بلوچ کو 5 جولائی کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اسلام آباد کے گرین ایونیو ،ان کے گھر سے لیکرگئے جو تاحال لاپتہ ہے ۔

https://twitter.com/drusmanbaloch/status/1833061365445218649

خفیہ اداروں نے فیضان کے والد ڈاکٹر عثمان بلوچ کو کہا کہ ہم فیضان کو صرف دودن کیلئے لیکر جاتے ہیں ،ہمیں انکوائری کرنا ہے کہ اس کے فون سے اس کے ایک رشتہ دار کو فون کیاگیا ہے اور وہ رشتہ دار کسی شدت پسند کارروائی میں ملوث ہے ۔

اس کے بعد ڈاکٹر عثمان بلوچ نے فیضان کو ان کے حوالے کیا لیکن 2 مہینے بھی انہیں چھووڑ دیا گیا تو ڈاکٹر عثمان بلوچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس کی گمشدگی کیخلاف کیس فائل کیا۔

جبکہ فیضان کے اہل خانہ کو واضح طور پر تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ احتجاج نہ کریں اور نہ ہی اس کی گمشدگی کی اطلاع دیں، اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

لیکن جب دو مہینے بعدانہیں چھوڑا گیا تو ڈاکٹر عثمان نے ببانگ دہل کہا کہ اس لے بیٹے کو آئی ایس آئی نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment