پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والا 18 سالہ بلوچ طالب علم فیضان عثمان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
فیضان کی بازیابی کی تصدیق اس کے والد عثمان بلوچ نے سوشل میڈیا فلیٹ فارم ایکس پراپنے ایک پوسٹ کیاہے۔
عثمان نے بلوچ قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اپنی پوری قوم اور ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
واضع رہے کہ فیضان عثمان بلوچ کو 5 جولائی کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اسلام آباد کے گرین ایونیو ،ان کے گھر سے لیکرگئے جو تاحال لاپتہ ہے ۔
خفیہ اداروں نے فیضان کے والد ڈاکٹر عثمان بلوچ کو کہا کہ ہم فیضان کو صرف دودن کیلئے لیکر جاتے ہیں ،ہمیں انکوائری کرنا ہے کہ اس کے فون سے اس کے ایک رشتہ دار کو فون کیاگیا ہے اور وہ رشتہ دار کسی شدت پسند کارروائی میں ملوث ہے ۔
اس کے بعد ڈاکٹر عثمان بلوچ نے فیضان کو ان کے حوالے کیا لیکن 2 مہینے بھی انہیں چھووڑ دیا گیا تو ڈاکٹر عثمان بلوچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس کی گمشدگی کیخلاف کیس فائل کیا۔
جبکہ فیضان کے اہل خانہ کو واضح طور پر تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ احتجاج نہ کریں اور نہ ہی اس کی گمشدگی کی اطلاع دیں، اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
لیکن جب دو مہینے بعدانہیں چھوڑا گیا تو ڈاکٹر عثمان نے ببانگ دہل کہا کہ اس لے بیٹے کو آئی ایس آئی نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔