پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت اور پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے 2 بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کی شناخت داد شاہ بلوچ ولد ماسٹر سلیم بلوچ اور فیضان ولد ڈاکٹر عثما ن بلوچ کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ داد شاہ کوضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دادشاہ کو گذشتہ شب رات ایک بجے کے قریب تربت میں شاہی تمپ سےفورسز نے ان کے گھر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔
اسی طرح فیضان بلوچ کو 59 دن قبل 5 جولائی 2024کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے فورسز نے جبری لاپتہ کیا جس کا تاحال کوئی خبر نہیںہے۔
اس سلسلے میں بی این ایم کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیضان بلوچ کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 جولائی کو بلوچ طالب علم فیضان عثمان کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اسلام آباد کے گرین ایونیو سے زبردستی لاپتہ کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ابتدائی طور پر اس کے خاندان کے گھر پر چھاپہ مارا جبکہ فیضان وہاں موجود نہیں تھا۔ چھاپے کے بعد، اس کے اہل خانہ کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کے تحت اسے حکام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور کیا گیا۔
پانک کا کہنا تھا کہ فیضان کے اہل خانہ کو واضح طور پر تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ احتجاج نہ کریں اور نہ ہی اس کی گمشدگی کی اطلاع دیں، اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ملوث ایجنسیوں نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ فیضان کو رہا کر دیا جائے گا، لیکن ان یقین دہانیوں کے باوجود اب دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، فیضان تاحال لاپتہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کے بعد خاندان نے ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی ہے جس میں مزید جوابی کارروائی کے خطرے کے باوجود انٹیلی جنس ایجنسیوں پر فیضان کے اغوا کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ کیس پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے وسیع مسئلے کو اجاگر کرتا ہے، جہاں خاندانوں کو اکثر خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں چھوڑ دیا جاتا ہے، اپنے پیاروں سے محروم کر دیا جاتا ہے، انصاف کا بہت کم سہارا نہیں ملتا۔
فیضان ایک طالب علم ہے جس کی عمر صرف 17 سال ہے۔فیضان بلوچ ڈاکٹر عثمان بلوچ کے بیٹے اور ڈی ایس ایف اسلام آباد/راولپنڈی کےصدر گل حسن بلوچ کےکزن ہیں۔