طالبان نے بین الافغان مذاکرات کا 5 ہزار قیدیوں کی رہائی سے مشروط کردی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغان طالبان نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز ان کے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی سے مشروط ہے۔

طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پھر سے سرگرم ہیں۔

خلیل زاد نے قطر میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد اتوار کو پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد وہ کابل روانہ ہوگئے۔

امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے طالبان رہنما شیر محمد عباس استنکزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زلمے خلیل زاد کا خطے کے بار بار دورہ کرنے کا مقصد بین الافغان مذاکرات کے جلد آغاز کی کوشش ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت نے قیدیوں کے تبادلے کے دوران ہی بین الافغان مذاکرات کی اجازت دے دی ہے اور اس سلسلے میں افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جرمنی یا پھر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہوں گے۔ لیکن پیر کو وی او اے کے ساتھ گفتگو میں شیر عباس استنکزئی نے ان اطلاعات کی تردید کی۔

ان کے مطابق ابھی تک افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ یا جگہ کے انتخاب پر بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورے سے متعلق دوحہ میں طالبان کے سیاسی ترجمان محمد سہیل شاہین نے بتایا ہے کہ طالبان رہنمائوں نے ملا عبد الغنی برادر کی سربراہی میں زلمے خلیل زاد، جنرل ملر اور ان کی ٹیم سے قیدیوں کی جلد رہائی اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر بات چیت کی۔

دورہ پاکستان کے دوران امریکی نمائندہ خصوصی نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

Share This Article
Leave a Comment