بی ایل اے حملوں وبارشوں سے ریلوے کویومیہ 15 لاکھ کے نقصانات کا سامنا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں بارشوں اور بی ایل اے کے حملوں کے نتیجے میں معطل ہونے والی ٹرین سروسز کو کئی روز گزرجانے کے باوجود بھی بحال نہ کروایا جاسکا جس سے ریلوے کو روز انہ 15 لاکھ روپے کے نقصان ہورہا ہے۔

بلوچستان کے ضلع بولان میں بی ایل اے کے آپریشن ہیروپ کے نتیجے میں پل گرنے کے باعث کوئٹہ سے پاکستان کیلئے ٹرین سروس ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود بھی بحال نہ کی جاسکی۔

گزشتہ ہفتے بولان کے علاقے دوزان میں انگریز راج میں تعمیر ہونے والا ریلوے پل بم دھماکے کے نتیجے میں گرگیا تھا، ریلوے پل گرنے سے پنجاب اور سندھ کیلئے ریل سروس معطل ہوگئی تھی جسے محکمہ ریلویز ایک ہفتہ گزرجانے کے بعد بھی بحال نہ کرسکا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پاکستان کیلئے ٹرین سروس کی مچھ سے بحالی کیلئے ریلوے نے محکمہ داخلہ بلوچستان اور ایف سی کو سکیورٹی کی فراہمی کا مراسلہ لکھا تھا لیکن7 روز گزرنے کے باجود ابھی تک سکیورٹی دینے کا فیصلہ نہیں ہوا جب کہ محکمہ ریلویز بھی مسافروں کو مچھ لے جانے کیلئے بسوں کا بندوبست بھی نہیں کرسکا ہے۔

دوسری جانب سبی سے ہرنائی کیلئے ٹرین سروس 23 جولائی سے بند ہے اور سبی ہرنائی ریلوے ٹریک کی مرمت ڈیڑھ ماہ بعد بھی نہیں ہوسکی ہے۔

ادھر قلعہ عبداللہ کے علاقے شیلا با غ کی سرنگ میں برساتی پانی بھرنے کے باعث کوئٹہ چمن ٹرین سروس بھی 2 روز سے معطل ہے جس کی بحالی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہبلوچستان میں ٹرینوں کی بند ش سے ریلوے کو روز انہ 15 لاکھ روپے کے نقصان ہورہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment