کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ریاض جبری گمشدگی کے بعدبازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض چند گھنٹوں کے لیے لاپتا ہونے کے بعد گھر پہنچ گئے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض کو ایک کیس میں تصدیق کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

تاہم ڈاکٹر ریاض کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان روڈ سے مجھے تھانے لے جایا گیا، اہلیہ کے شور مچانے پر ان سے میری ملاقات کرائی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی اور طلبہ کے آواز اٹھانے پر مجھے ریلیز کرنے کا حکم ملا۔

قبل ازیں پروفیسر ڈاکٹر ریاض کی گمشدگی پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے پیر کو کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1829934749303161086

ڈاکٹر ریاض کی جبری گمشدگی پر وائس پر بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہناتھا کہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد کو جبری طور پر گھنٹوں تک غائب کرنا بہت شرمناک عمل ہے۔

سمی بلوچ کا کہناتھا کہ ڈاکٹر ریاض انسانی حقوق کیلئے موثر آواز ہے اور ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھی ڈاکٹر ریاض کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تب بھی آپ انکوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں روک سکے تو اب کیسے روک سکتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چند ہی ایسے لوگ ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متواتر تسلسل کے ساتھ توانا آواز اٹھا رہے ہیں اگر ان آوازوں کو خاموش کردیا گیا تو ہم میں اور جنگل کے درندوں میں کوئی فرق باقی نہیں بچے گا۔

Share This Article
Leave a Comment