کراچی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض چند گھنٹوں کے لیے لاپتا ہونے کے بعد گھر پہنچ گئے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض کو ایک کیس میں تصدیق کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
تاہم ڈاکٹر ریاض کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان روڈ سے مجھے تھانے لے جایا گیا، اہلیہ کے شور مچانے پر ان سے میری ملاقات کرائی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی اور طلبہ کے آواز اٹھانے پر مجھے ریلیز کرنے کا حکم ملا۔
قبل ازیں پروفیسر ڈاکٹر ریاض کی گمشدگی پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے پیر کو کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
ڈاکٹر ریاض کی جبری گمشدگی پر وائس پر بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہناتھا کہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد کو جبری طور پر گھنٹوں تک غائب کرنا بہت شرمناک عمل ہے۔
سمی بلوچ کا کہناتھا کہ ڈاکٹر ریاض انسانی حقوق کیلئے موثر آواز ہے اور ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
اس سے پہلے بھی ڈاکٹر ریاض کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تب بھی آپ انکوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں روک سکے تو اب کیسے روک سکتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چند ہی ایسے لوگ ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متواتر تسلسل کے ساتھ توانا آواز اٹھا رہے ہیں اگر ان آوازوں کو خاموش کردیا گیا تو ہم میں اور جنگل کے درندوں میں کوئی فرق باقی نہیں بچے گا۔