بلوچستان کے علاقے خاران سے 17اگست کو جنگل روڑ گدان ہوٹل سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے نوجوان شہزاد محبوب بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف خواتین و بچوں کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور خاران پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا ۔
احتجاجی شرکاء نے ہاتھوں میں لاپتہ شہزاد کی تصاویر اور رہائی کی مطالبے کی کلمات درج تھے۔
احتجاجی مظاہرے سے لاپتہ شہزاد محبوب ملازئی کی ہمشیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 15دنوں سے کم عمر بھائی جبری طور پر لاپتہ ہیں سیکورٹی فورسز نے اُنہیں کاروبار کی جگہے سے اغواء کرکے لے گئے جو تاحال بازیاب نہ ہوسکا ہے اور علاقے کی ڈپٹی کمشنر نے ہمیں دو دن کا بازیابی کا وقت دیا تھا لیکن آج اُنہیں پندرہ دن مکمل ہوگئے اور ہمیں صرف جھوٹے تسلیاں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ لاپتہ شہزاد کی ذاتی واٹس ایپ استعمال کی جارہی ہے جس سے ہمیں شدید تشویش ہے ۔
انہوں نے ریاست ،ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندگان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہمارے لاپتہ بھائی شہزاد احمد تین دن میں بازیاب نہیں ہوئے تو ہم شدید احتجاجی دھرنے دینگے۔