سطح سمندر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو تباہ کن ہے، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

اقوام متحدہ کے سربراہ نے بحرالکاہل میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سطح سمندر کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی اوسط کی شرح سے تین گنا زیادہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے گرین ہاؤس گیسیز کے اخراج میں کمی پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے منگل کے روز سمندر کے تحفظ سے متعلق مہم سیو آور سیز (ایس او ایس) کے بارے میں ایک عالمی تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحرالکاہل کے جزائر میں سمندر کا درجہ حرارت عالمی اوسط شرح سے تین گنا زیادہ بڑھ رہا ہے۔

درجہ حرارت میں اضافے سے پانی پھیلتا ہے اور پھر یہ سمندر کی سطح میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے پیسیفک آئی لینڈز فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "میں ٹونگا میں ہوں تاکہ بڑھتی ہوئی سطح سمندر پر سیو آور سیز سے متعلق ایک عالمی تنبیہ جاری کروں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ بحر الکاہل کے جزائر سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے اثرات سے "خاص طور پر بے نقاب” ہو چکے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، "عالمی سطح پر سمندر کی اوسط سطح گزشتہ 3,000 سالوں سے غیر معمولی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر بہہ پڑا ہے۔”

گوٹیرش نے ایک حالیہ رپورٹ کے نتائج کے بارے میں بات کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافے سے سب سے زیادہ جنوب مغربی بحرالکاہل متاثر ہوا ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں بعض جگہیں عالمی اوسط سے دگنی سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحرالکاہل کے جزائر سطح سمندر سے صرف ایک یا دو میٹر ہی بلند ہیں اور اس وجہ سے خاص طور پر کافی کمزور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "نصف بنیادی ڈھانچہ بھی سمندر کے 500 میٹر کے اندر ہی ہے۔”

آب وہوا کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 30 سالوں میں بحرالکاہل کے کچھ حصوں میں سمندروں کی سطح میں 15 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی اوسط 9.4 سینٹی میٹر ہے۔

انٹونیو گوٹیرش نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی، "وجہ واضح ہے: معدنی ایندھن کو جلانے سے گرین ہاؤس گیسیں بہت زیادہ پیدا ہوتی ہیں، جو ہمارے سیارے کو گرم کر رہی ہیں۔ اور حقیقت میں ساری گرمی سمندر جذب کر رہا ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا، "سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح طوفانوں اور ساحلی سیلاب کی تعداد اور ان کی شدت کو بڑھا رہے ہیں۔ اس طرح کے سیلاب ساحل پر بسنے والی برادریوں کو دلدل میں لے جاتے ہیں اور ماہی گیری کو تباہ کرتے ہیں۔ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تازہ پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں بحرالکاہل کے جزیروں پر بسی قوموں کو شدید خطرے میں ڈالتی ہیں۔”

بحرالکاہل کے جزائر فورم کے اٹھارہ ارکان نے ٹونگا میں ایک ہفتے تک اجلاس کے دوران موسمیاتی تبدیلی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پیسیفک آئی لینڈز فورم میں آسٹریلیا، کوک آئی لینڈز، فیڈریٹڈ اسٹیٹس آف مائیکرونیشیا، فجی، فرانسیسی پولینیشیا، کریباتی، نورو، نیو کیلیڈونیا، نیوزی لینڈ، نیو، پالاؤ، پاپوا نیو گنی، جمہوریہ مارشل آئی لینڈ، ساموا، جزیرہ سلیمان، تووالو، اور وانواتو ٹونگا پر مشتمل ہے۔

اس فورم کا رکن آسٹریلیا دنیا میں کوئلے کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ گوٹیرش نے کہا کہ معدنی ایندھن کا استعمال بالآخر مرحلہ وار ختم ہونا چاہیے۔ جب آسٹریلیا کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "مختلف ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔”

گوٹیرش نے خبردار کیا کہ اگر عالمی اخراج کو کم نہیں کیا گیا، تو بحرالکاہل کے جزائر میں سن 2050 تک سمندر کی سطح میں 15 سینٹی میٹر (5.9 انچ) کے اضافے کا امکان ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں سال کے 30 دنوں تک سیلاب کی توقع ہے۔

گوٹیرش نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ وہ کمزور ممالک میں "موسمیاتی موافقت کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ "ترقی یافتہ ممالک کو اپنے (مالی) وعدوں کو پورا کرنا ہوگا، جس میں سن 2025 تک ہر سال کم از کم 40 بلین تک موافقت کی مالیات کو دوگنا کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔”

گزشتہ برس اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں موسمیاتی آفات سے متاثرہ غریب ممالک کی مدد کے لیے "تباہی اور نقصان” سے متعلق ایک فنڈ کو منظور کیا گیا تھا۔ تاہم امیر ممالک سے فنڈز کو حاصل کرنا اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

Share This Article
Leave a Comment