کولواہ میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 7 اہلکار ہلاک ہوئے ، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ پانے یاک پریس ریلیز میں کولواہ میں پاکستانی فورسز پر حملوں میں 7 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے آواران کے علاقے کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بنا کر سات اہلکاروں کو ہلاک کیا جبکہ تین اہلکاروں کو زخمی کرنے کے علاوہ سر ویلینس ڈرون طیارے کو مار گرایا۔

انہوںنے کہا کہ پہلے حملے میں سرمچاروں نے دس اگست کی شام سات بجے گیشکور کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں دشمن فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے دس اگست کی رات آٹھ بجے ڈنڈار کولواہ میں قائم قابض پاکستانی فوجی کیمپ کے قریب جا کر دونوں اطراف سے جدید و خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ حملہ تیس منٹ تک جاری رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد دشمن فوج نے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کے لئے سر ویلینس ڈرون فضا میں اڑائے لیکن سرمچاروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرون کیمرے کو مار گرایا۔

میجر گھرام بلوچ نے مزید کہا کہ اپنی فطرت سے مجبور شکست خوردہ دشمن اپنی ناکامی کا غصہ عام آبادیوں پر نکالتی ہے جس کا نشانہ عام عوام بنتے ہیں۔ اس حملے میں بھی دشمن فوج کا مارٹر گولہ گھر میں گرنے سے ایک بچی ستارہ ولد شبیر شہید ہوئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ خطہ ہے اور عوام اس جبری قبضے سے نفرت کرتے ہیں۔ بلوچستان بھر میں چودہ اگست یوم سیاہ کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ یہ کامیاب حملہ، بی ایل ایف کی ٹیکنیکل ٹیم، انٹیلیجنس ٹیم، اسپیشل فورس اور قربان یونٹ کی جانب سے انجام دی گئی ہے جو جدید دور میں تنظیم کی صلاحیتوں اور تنظیم میں ٹیم ورک اور طاقت کا مظہر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف ایک عوامی قوت ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کو مسلح جنگ کی شکل میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آخر میں انہوںنے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک ایسے منظم حملے جاری رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment