اسرائیل نے 80 نامعلوم افراد کی لاشیں غزہ حکام کے حوالے کردیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی میں مارے گئے 80 سے زیادہ فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر دیں۔

جبکہ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پیر کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 18 افرادمزید ہلاک ہوئے ہیں۔

جنوبی غزہ میں خان یونس میں فلسطینی سول ایمرجینسی سروس کے ڈائریکٹر یامین ابو سلیمان نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ لاشیں فوج نے زمینی کارروائی کے دوران قبرستانوں سے کھود کر نکالی تھیں، یا یہ وہ قیدی تھے جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ماردیا گیاتھا۔”

سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر یامین ابو سلیمان نے اے ایف پی کو بتایا، ” ہمیں 15تھیلوں میں 80 لاشیں ملی ہیں جن میں سے ہر ایک بیگ میں، الگ چادر میں لپٹے چار سے زیادہ افراد تھے۔ "

ابو سلیمان نے کہا کہ اسرائیلی حکام نےلاشوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نےنہ تو ان کے نام بتائےہیں نہ یہ کہ وہ کہاں سے ملی تھیں یا کہاں سے لی گئی تھیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ غزہ میں مارے گئے تھے یا (اسرائیل کی) جیلوں کے قیدی ہیں۔

جائے وقوع پر موجود اے ایف پی کے صحافیوں نے حفاظتی سوٹ میں ملبوس مردوں کو نیلے رنگ کے پلاسٹک کے تھیلوں میں چادروں میں لپٹی لاشوں کو وہاں لانے والےکنٹینر سے اتارنے جانے سےقبل ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیکھا ۔

اس کے بعد لاشوں کو ریت میں کھودی گئی ایک اجتماعی قبر میں تدفین کے لیے ایک قطار میں رکھ دیا گیا،اس وقت بیسیوں فلسطینی انہیں دیکھ رہے تھے۔

اے ایف پی کے صحافیوں نے بتایا کہ لاشوں کو بعد میں غزہ کے جنوبی مرکزی شہر خان یونس کے قریب ترک قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ترک قبرستان سے متعلق تابش ابو عطا نےاے ایف پی سے کہا "آپ مجھ سے پوچھیں گےکہ میں نے ساری لاشیں ایک اجتماعی قبر میں کیوں دفن کیں؟ کیونکہ میرے پاس ہر ایک کو الگ الگ قبر میں دفن کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اس کے لیے پتھر یا ٹائلیں موجودنہیں ہیں۔”

Share This Article
Leave a Comment