خاران میں پاکستانی فورسز ہاتھوں 3 نوجوان جبراًلاپتہ،لواحقین کاروڈ بلاک احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران میں پاکستانی فورسز نے 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

فورسز ہاتھوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کیخلاف لواحقین نے ردعمل میں احتجاجاً کوئٹہ خاران روڈ بلاک کرکے دھرنادے دیا۔

لاپتہ کئے جانے والے 2 نوجوانوں کی شناخت عبدالشکور میروانی ولد حاجی عبدالرزاق میروانی،عبداللہ میروانی ولد حاجی عبدالرزاق میروانی کے ناموں سے ہوگئی جبکہ ایک کی تاحال شناخت نہ ہوسکی۔

فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب فورسز نے انکے گھر سیاپٹ کے مقام پر چھاپہ مارکر خواتین کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر گھر میں توڈ پھوڑ کی اور میر عبدالقدوس میروانی کے بھائی سمیت دو قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ عبدالقدوس میروانی علاقے کا ایک کونسلر و معتبر سیاسی و سماجی کارکن بھی ہے اور 10 سال قبل ان کے ایک بھائی عبدالکریم میروانی کو لاپتہ کر دیا گیا تھا جو تاحال لاپتہ ہیں۔

آج بروز منگل کو فورسز ہاتھوں تینوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے بعد لواحقین نے اپنے پیاروں کی بازیابی اور ریاستی جبر کے خلاف خاران ٹو کوئٹہ ڈبل روڈ کو آمد رفت کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا ۔

لاپتہ افراد کے فیلی نے اہلیان خاران سے اپیل کی وہ اس احتجاج میں شامل ہوکر ان کی آواز بلند بنیں ۔

Share This Article
Leave a Comment