گوادر میں دھرنا جاری ، راستے وفون سروسز کے بعد شہر کی پانی کی سپلائی بھی بند

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں بلوچ راجی مچی دھرنا جاری ہے ۔شاہراہوں اور فون سروسز کی بندش کے بعد اب فورسز نے شہر کو پانی کی سپلائی بھی بند کردی ہے۔

سنگر کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گوادر میں فورسز نے گوادر شہر کو پانی کی سپلائی بند کردی ہے ۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ گوادر سے باہر جانے والے لوگوں کے موبائل فون کی تلاشی ،بلوچ راج مچی اور گوادر شہر کی ویڈیو اور تصاویر کو ڈیلیٹ کرکے لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1819482374930837654

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر پدی زر میں ایک ہفتے سے جاری دھرنا نوشکی واقعہ کے بعد ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر ماہ نگ بلوچ کا مطالبہ تھا کہ بلوچ راج مچی کے لیے گوادر آنے والے تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے ،نیٹ ورک بحال اور راستے کھول دیے جائیں،آل پارٹیز اتحاد،گوادر انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مابین تین سے انہی پوائنٹ پر مذاکرات ہورہے تھے ۔

گوادر انتظامیہ نے گوادر شہر سے پکڑئے گئے افراد کو رہا کردیا تھا تاہم موبائل سروس ابھی تک بحال نہیں کیے گئے جبکہ مین شاہراہ ابھی بھی بند ہیں۔

دوسری جانب گوادر شہر کو پانی کی سپلائی مکمل طور پر بند کردی گئی ہے جس سے گوادر شہر میں لوگ پانی کے لیے ترس رہے ہیں بتایا جاتا ہے فورسز نے ساوڑ ڈیم،شادی کور ڈیم اور آنکاڑہ ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کرادی ہے۔

ریاستی فوسز کی جانب سے گوادر شہر سے بیرون شہر جانے والے لوگوں کے موبائل فون کی تلاشی لی جارہی ہے جس شخص کے موبائل میں گوادر میں منعقدہ راجی مچی ،گوادر شہر اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تصاویر اور فوٹو موجود ہو اُنھیں ڈیلیٹ کیا جارہا ہے ۔

عینی شائدین کے مطابق اس دوران فورسز کی جانب سے متعدد لوگوں پر تشدد کیا گیا بہت سے موبائل فون توڑ دیے گئے۔

مکران کوسٹل ہائی وے پر جگہ جگہ ایف سی،پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے ساتھ ساتھ سادہ لباس میں نقاب پوش افراد بھی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچ راجی مچی کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن کے بعد پدی زر میں دھرنا تحریک ایک ہفتے سے جاری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جاری مذاکرات کے باوجود، ریاست پاکستان بھر میں پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کو تیز کر رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں شہریوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سفاکانہ کارروائیاں نسل کشی کے خلاف پرامن بلوچ تحریک کو دبانے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام بنیادی انسانی حقوق اور وقار کے لیے اپنی لڑائی ترک کر دیں گے تو وہ غلط ہیں۔ ہم اس فاشسٹ ریاست کے پرتشدد اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔ نسل کشی کے خلاف بلوچ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری بلوچ کھڑا نہیں ہو جاتا۔

Share This Article
Leave a Comment