گوادر: تلار چیک پوسٹ پرصورتحال گھمبیر، مزید ہلاکتیں ،گرفتاری و گمشدگیوں کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تلارمیںپاکستانی فورسزکی چیک پوسٹ پرصورتحال گھمبیر ہے ، مزید ہلاکتیں ،گرفتاری و گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

تلارمیں آمدہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز گذشتہ 6 دنوں سے محصور بلوچ راجی مچی کیلئے جانے والے نہتے عوام کو پر تشدد کارروائی ، گرفتار وجبری گمشدگیوں کا نشانہ بنارہی ہیں۔

واضع رہے کہ تلار ضلع گوادر اور ضلع کیچ کے سنگم پر واقعہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جو انتظامی طور پر ضلع کیچ میں شمار ہوتا ہے اور گوادر شہر سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1819304665994911799

بلوچستان بھر میں جاری عوامی احتجاج کیخلاف ریاستی کریک ڈائون جاری ہے ، موبائل فون سرورسز گذشتہ ایک ہفتے سے بندش ہیں جس سے صحیح معلومات تک رسائی نہیں ہو پارہی ہے لیکن تلار سے اطلاعات آرہی ہیں کہ فورسز گذشتہ ایک ہفتے سے محصور ،بھوکے و پیاس سے نڈھال نہتے عوام پر سیدھا فائرنگ وآنسو گیس فائر کر رہی ہے جبکہ کئی فراد کو بندوقوں سے تشدد کا کا نشانہ بناکر زخمی کیا گیاہے ۔

پانی وخوراک کی حصول کیلئے جانے والے بھوکے وپیاسے نہتے عوام کو زبردستی گرفتار و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور متعدد افراد کو گرفتار ی کے بعد لاپتہ کرنے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 3 افراد گولیوں سے شہید ہوچکے ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مکمل مواصلاتی بندش کی وجہ سے تلار چیک پوسٹ پر فوجی اور نیم فوجی دستوں کی پرتشدد کارروائیوں سے ہونے والے زخمیوں اور ہلاکتوں کی اصل تعداد کا تعین کرنا ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 جولائی کو فورسز کی براہ راست فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دیگر بری طرح زخمی ہوئے۔ 28 جولائی کورپورٹس بتاتی ہیں کہ 8 شرکاء بری طرح زخمی ہوئے، اور 2 افراد تلار چوکی پر فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔

بی وائی سی کا کہنا تھا کہ فورسز نے سینکڑوں گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ضبط کرلیاہے۔ تربت کی سینٹرل جیل میں بتیس شرکا اور چار سٹی پولیس لاک اپ میں نظر بند ہیں۔ مزید برآں، 40 شناخت شدہ افراد کو فرنٹیئر کور نے حراست میں لیا ہے، جب کہ نامعلوم زیر حراست افراد کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment