ایران میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ ایک حملے میں ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

بدھ کو حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اسماعیل ہنیہ تہران میں ان کی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

‘ حماس کے مطابق، ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے ایک محافظ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں لکھا ہے کہ ’حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ اور ان کا ایک محافظ ان کی رہائش گاہ پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی حماس کی جانب سے جاری بیان کا حوالہدیتے ہوئے ان کی خبر کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’واقعہ‘ کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہے لیکن اس معاملے کی ’تفتیش‘ کی جا رہی ہے۔

62 سالہ ہنیہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں حماس تحریک کے ایک اہم رکن تھے۔ اسرائیل نے 1989 میں پہلی فلسطینی بغاوت کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہنیہ کو تین سال کے لیے قید رکھا۔ اس کے بعد انھیں 1992 میں حماس کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک غیر آباد علاقے میں جلاوطن کر دیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment