انسانی حقوق کارکن و بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک تازہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت پاکستانی فوج اور ایف سی نے گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کے پرامن دھرنے پر ایک اور وحشیانہ اور پرتشدد حملہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر پرامن مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں چلائیں اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور سینکڑوں گرفتار ہوئے۔
ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ جگہ جگہ موجود ہیں اور لوگوں کو پکڑ کر انہیں مار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی ریاست گوادر میں پرامن مظاہرین پر ظلم و جبر کی انتہا کر رہی ہے۔ پورے شہر کو پاکستانی فوج نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہمیں زخمیوں کو نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی ایمبولینسوں کو گزرنے دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ اب گوادر کے مناظر بھی کسی بھیانک سے کم نہیں!۔میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ فوری طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور انسانی حقوق سے متعلق کسی بھی فرد کو خط لکھیں، کیونکہ اس وقت گوادر میں ہزاروں جانیں انتہائی خطرے میں ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ بی وائی سی کے کارکنان وشرکا ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کئے گئے ، کئی فورسز کی تشدد ست زخمی ہیں جن کی کوئی خبر نہیں ہے۔اگرمجھ سمیت بی وائی سی کی قیادت، کارکنان و شرکا کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار ریاست پاکستان ، اسکی ایجنسیاں اور حکومت بلوچستان ہوگئی۔